ٹرمپ کا ایران پر بمباری روکنے کا فیصلہ، پاکستان کی کاوشوں سے دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پا گئی

Trump stops bombing Iran after PM Shehbaz and Asim Munir

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف طے شدہ حملوں کو دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم سفارتی کامیابی کے بعد امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اس جنگ بندی کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک اگلے چودہ روز تک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کریں گے۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس بڑی خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے توانائی کے بحران میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کی معیشت کے لیے بھی یہ خبر خوش آئند ثابت ہوئی ہے اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔

آج کاروبار کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ہنڈرڈ انڈیکس میں 12 ہزار 900 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.