شہر کراچی مقتل بن گیا !


Karachi police

شہر کی ہرسڑک ۔۔۔ہر گھر کی دہلیز پر خون کی لکیریں ہیں۔

محافظوں کےبھیس میں قاتل دندناتے ہیں۔

عمارتوں کےجنگل میں گھر کی دہلیزپربھی  کوئی محفوظ نہیں۔ بےگناہ شہری اپنی خون پسینےکی کمائی کے لیے لٹیروں سے معمولی مزاحمت بھی کریں تو جان سے جاتے ہیں۔صرف چند پیسوں کی خاطر ماں کےسامنے بیٹا،بہن کے سامنے بھائی، بھائی کےسامنے بھائی کو گولیوں سے بھون دیاجاتاہے۔ستم پہ ستم یہ کہ لٹیرا اور قاتل  محافظ  نکلتاہے۔

عجیب نظام  ہے، سی سی ٹی وی ہو یا موبائل ویڈیو، شہر مقتل میں کوئی شہادت کام نہیں آتی ۔کالی بھیڑیں اس قدر جال بچھا چکی ہیں کہ قانون کےشکنجے بھی کہیں نہ کہیں سے ٹوٹ ہی جاتے ہیں۔

قانون کو نسلا ٹاور نظرآتا ہے لیکن شہر میں قتل ہوتے بے گناہ شہری نظرنہیں آتے۔گھر چلانے والے  اکلوتے کمانےوالےمرتے نظرنہیں آتے۔

رہ جاتے ہیں ماتم کرنےوالے۔ دو دن کی بیوہ ہو یا نوجوان کی ماں۔ان کی آہ و گزاری ہو یا عرش تک جاتی چیخیں۔۔ صاحب اقتدار کےکانوں تک پھر بھی نہیں پہنچتیں۔

ذرا پوچھیں ان سےجن پر قیامت گزرتی ہے۔ جن کےگھر ایک گولی سے تہس نہس ہو جاتے ہیں۔

وہ ایک گولی سب کےدلوں پر تاحیات چلتی رہتی ہے۔ہر روز نیا زخم دیتی ہے۔خوشی کا موقع ہو یا غم ۔ گولی دل کا زخم گہرا کر دیتی ہے۔۔

اس ماں سے پوچھیں جس کےجگر کےٹکڑے کو اس کےسامنے ماردیا۔اس دو دن کی بیوہ کا سوچیں جو اب کبھی شاید چوڑیوں کی  کھنک نہ سن پائے۔۔ اس بھائی سے پوچھیں جوچھوٹو کی موت کے منظر کو یاد کرکےپل پل مرتاہے۔۔اس بیٹی سے پوچھیں جس کی دنیا بکھر گئی۔

عجب تماشہ ہے۔کہنےوالے کہتے ہیں مہنگائی بےروزگاری بڑھ گئی تو کیا مرنےوالے ان سب سےپریشان نہ تھے۔اپنے حالات بدلنےکےلئے کیا دوسروں کی زندگی چھین لیں۔خاندان کےخاندان کو زندہ درگور کردیں۔

یہاں  کسی کوسرکاری نوکری کرنی ہےتوتھانےکا ریکارڈ تک چیک کروایاجاتاہے،لیکن ایک پولیس اہلکارکو  ڈکیتیوں اور منشیات فروشی کاجرم  ثابت ہونے کےباوجود نوکری پر بحال رکھا جاتاہے۔کیا قانون اتنا کمزورہے کہ قانون  کا اطلاق کرنےوالے ادارے بھی اس کا فائدہ اٹھاتےہیں۔اگر کوئی پولیس اہلکار ڈاکو ہے ، منشیات فروش ہے ، اس پر درجنوں مقدمات ہیں، توعادی مجرم کیا پولیس کی ملازمت پر قائم رہ سکتاہے؟

  خدارا حکام بالا جاگ جائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ شہر میں بےگناہ شہریوں کا قتل اور ماؤں کی آہوں پر  خدا رسی کھینچ لے۔



 اس تحریر کی مصنفہ مفلحہ رحمان صحافت اور پریس فوٹوگرافی کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ مفلحہ رحمان مختلف اداروں میں کام کرچکی ہیں اور ان کی تحاریر ملک کے موقر اخبارات، رسائل اور جرائد میں شایع چکی ہیں۔ مفلحہ رحمان سے ٹوئیٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  Muflehaaa@

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.