ریسٹورنٹس سےنکاسی کےانتظامات، نقصانات کاازالہ کیا جائے، کنوینرآل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن

 

Restaurants submerged with rain water in Karachi

آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن (اپرا) کے کنوینر اطہر چاؤلہ نے حالیہ بارشوں کے دوران کراچی بھر کے ریسٹورنٹس میں بھرنے والے پانی کی نکاسی کے اب تک کوئی انتظامات نہ ہونے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ ، ڈی ایچ اے اور سی بی سی کے اعلیٰ حکام سے درخواست کی ہے کہ ریسٹورنٹس انڈسٹری کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے پانی کی نکاسی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔

اطہر چاؤلہ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ حالیہ موسلا دھار بارشوں سے کراچی کے بیشتر علاقوں باالخصوص ڈیفنس، کلفٹن،پی ای سی ایچ ایس، بہادرآباد، نارتھ ناظم آباد،ناگن چورنگی، بفرزون، حیدری،گلشن اقبال، گلستان جوہر سمیت دیگر علاقوں میں واقع ریسٹورنٹس میں بارش کا کئی فٹ پانی بھرگیا ہے جو اب تک نہیں نکالا جاسکا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء خراب ہوگئی ہیں جبکہ ریسٹورنٹس کے کچن اورفرنیچر تباہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ریسٹورنٹس مالکان اپنی مدد آپ کے تحت بارش کا پانی نکال رہے ہیں مگر ریسٹورنٹس کے باہر بارش کا کئی فٹ جمع ہونے سے نکاسی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ بار ش کا سلسلہ تھمےچارروز گزر گئے مگر ڈی ایچ اے،سی بی سی اور دیگر علاقوں کے متعلقہ اداروں نے ریسٹورنٹس سے بارش کے پانی کی نکاسی کے ناکافی انتظاات کیے ہیں۔ان اداروں کے لیت و لعل کی وجہ سے ریسٹورنٹس انڈسٹری کو کروڑوں کا نقصان ہوا ہے کیونکہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طویل لاک ڈاؤن سے ریسٹورنٹس انڈسٹری کو اتنا مالی نقصان نہیں ہوا جتنا حالیہ بارشوں سے ہوا ہے۔

اطہر چاؤلہ نے مزید کہاکہ جن علاقوں میں پانی کم ہوگیا ہے وہاں کی بجلی بحال کی جائے جبکہ ریسٹورنٹس انڈسٹری کو حالیہ بارشوں کےنقصانات کے ازالے کے لیے مالی مدد کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں بصورت دیگرریسٹورنٹس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

Restaurants submerged with rain water in Karachi


1 تبصرہ:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.