گھر میں ماں باپ شجر سایہ دار ہوتے ہیں

There is no substitute to parents so value them

تحریر: شاہد انجم

تپتی دھوپ ہو یا سردیوں کی  تھرتھراہٹ، ننگے پاوں گریبان چاک نہ جسم پر گرم کپڑا نہ سر ڈھاپنے کے لیے ڈوپٹہ  بوسیدہ لباس اسکول جانا نہ صبح کے  ناشتے کی پرواہ نہ دوپہر اور شام کے کھانے کی فکر، بھوسی ٹکڑوں سے پیٹ کی آگ کو بجھانا۔

عید نہ شب برات نہ کسی خوشی کے موقع پر دوسروں کے ساتھ بیٹھنا نہ سر پر پیار کا ہاتھ نہ کسی نے گال تھپتھپایا۔ گرمی ہو یا سردی ایک ہی بستر اور ایک ہی چار پائی بستر گیلا ہو یا سوکھا ہر حال میں  رب کا شکر ادا کیا  مگر ایسا کیوں ہوا اس لیے کہ اہل محلہ بتاتےہیں کہ میرے  گھر میں بھی خوشیاں تھیں ایک بڑا خاندان تھا کسی موزی بیماری نے ایساحملہ کیا کہ ماں باپ کا ہی سایہ سر سے اٹھ گیا۔

کم عمری میں یہ دکھ شاید اس لیے جھیلتا رہا کہ گلی میں کھیلنے والے بچے میرے ساتھ گپ شپ اور کھیل کود کر میرا وقت گزار دیتے تھے۔ دوسروں کی ماں کو ماں کہہ کر رات کو چپ چاپ اپنے بستر پر لیٹ جاتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس ہونے لگا کہ کیا میں اس دنیا میں اکیلا ہی آیا تھا اور اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔

کبھی کبھار میں یہ سوچنے لگ جاتا کہ اگر میں بھی نہ ہوتا تومیری چھوٹی بہن رانی کا کیا ہوتا؟ کیا وہ اپنے پیا گھر سدھار پائے گی کہ نہیں، زندگی کے جھکڑ کچھ اس طرح چلتے تھے کہ کبھی کبھار دل میں ناامیدی پیدا ہونے لگتی تھی لیکن جب رانی مجھے پیار سے لالہ کہہ کر پکارتی دل میں جینے کی پھر سے امید پیدا ہوجاتی۔

کوئی دوست اپنے والدین سے اگر سخت لہجے میں بات کرتا تو مجھے بہت تکلیف ہوتی اور میں اکثر ان سے جھگڑا کرتا اور کہتا کہ والدین ایک نایاب ہوتے ہیں ، اگر چلے گئے تو کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ وہ میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے اور مجھ سے اکثر ناراض ہوجاتے تھے۔

ماہ صیام کا آخری عشرہ اختتام پذیر ہونے کو ہے اور شہر میں جگہ جگہ ایسے لاوارث سینٹروں کی نشاہدہی ہورہی ہے جہاں ہماری وہ مائیں بہنیں بزرگ زندگی بسر کررہے ہیں جن کے بچوں نے انہیں اپنی دنیاوی زندگی پر بوجھ سمجھ گھروں سے بے دخل کردیا ہے تو شہر میں قائم شیلٹر ہوم نے انہیں پناہ دی  جنہیں دیکھ کر آج دل خون کے آنسو روتا ہے۔

چونکہ مجھے بچپن ہی سے ماں باپ کا پیار نہ مل سکا اس لیے مجھے ایسا دیکھ کر زیادہ تکلیف ہوتی ہے اورمیرے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ماں باپ اتنا بڑا بوجھ ہیں جنہیں تم دو وقت کی روٹی جسم ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا اور سکھ کا سانس لینے کے لیے تھوڑا وقت نہیں دے سکتے۔

مجھے اپنے بچپن کی تلخ یادوں سے یہ احساس بھی ستاتا ہے کہ اگر تمھارے ماں باپ نہ ہوتے تو تم بھی میری طرح ننگے پاؤں اور بوسیدہ کپڑے پہن کر زندگی بھر ان کی یادوں  میں گزار دیتے۔ زرا سوچو ایسا کرنے والو! اگر تم بھی میری طرح بچپن میں یتیم ہوجاتے تو تم عید اور شب برات کی خوشیاں کیسے مناتے۔

 آج بھی میرے جیسے کئی بچے میری طرح کی زندگی گزار رہے ہیں اور کتنی ہماری بہن بیٹیاں ہیں جو کہ عید پر ایک سوٹ اور دو کلو سویوں کے لیے صرف ماں باپ نہ ہونے کی وجہ سے ترس رہی ہیں۔

میں کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ اگر میں بھی نہ ہوتا تو شاید رانی بھی عید کا روز اسی طرح گزارتی لہذا سوچنا چاہیے کہ جس نعمت کو آج تم اپنے ہاتھوں سے کھو رہے ہو کل تمھارے بچے بھی اس نعمت کو کھو کر تمھیں خوشیوں سے محروم کرسکتے ہیں۔ ذرا سوچیئے!


اس تحریر کے مصنف شاہد انجم کہنہ مشق صحافی ہیں اور جرائم کی کوریج میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہد انجم سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


مندرجہ بالا تحریر ویب سائٹ کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اورویب سائٹ کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.