لیاری سے لاہور (قسط نمبر 2)

 


 تحریر: امجد بلیدی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔

 اسی کمپاؤنڈ کے باہر غنی ماما سائیکل والے کی دکان، حمزہ پان والے کا کیبن جو غالباًبنگالی تھا اور غلام شاہ لین کی گلی کی جانب ایک اسماعیلی یا شایدمیمن یا پارسی بابا کے پرچون کی دکان تھی جس میں ایک تصویر لگی رہتی تھی اور ایک پنڈولم والی گھڑی۔ سائیکل کی دکان پر غنی ماما صبح صبح میٹروملن کی اگر بتی جلاتے اور سائیکل صاف کرتے نظر آتے۔ ان کی سہراب سائیکلیں ایسی جگمگاتیں جیسے ابھی ابھی کمپنی سے بن کر نکلی ہو۔  غنی ماما قاعدے قانون کے بڑے پابند تھے کوئی شخص سائیکل کرایہ پر لے جاتا اور اسے کیچڑ زدہ کرکے لے آتا یا ایک منٹ بھی تاخیر ہوجاتی تو اگلی بار اسے ترلے منتیں کرنے پر بھی سائیکل نہ مل پاتی۔ غنی ماما دکان ہی نہیں پورے علاقے کی بھی جان تھے کیونکہ جب کبھی بجلی جاتی یا نلکوں میں پانی نہ آتا تو وہ سب سے پہلے اپنی سہراب سائیکل نکال کر کے ای ایس سی (موجودہ کے الیکٹرک)کی گاڑی یا واٹر بورڈ کے لائن مین کوپکڑ کر لے آتے اورمسئلہ بروقت حل کرواتے۔ ان کے گھر کی چھت پر ہم نے فلمیں بھی بہت دیکھی ہیں جس پر آگے چل کربات کرینگے۔

 لیاری سے لاہور پہلی قسط پر یہاں کلک کریں

حمزہ پان والے کی کیبن میں حمزہ اورپارٹ ٹائم عبدالرحیم ہوا کرتے تھے۔ حمزہ کی بولی بنگالی اور اردو کا مکسچر تھا جس کی باتوں میں شین کم اور سین زیادہ ہوتا۔ کبھی کبھی ان کی چھالیہ بھی ہمیں سالیہ لگتی۔ اس علاقے میں یہ کیبن وہ واحد دکان تھی جو لیاری آمد پر پان کھانے اور سگریٹ سلگانے والوں کو خوش آمدید کرتی دکھائی دیتی اس رونق کی وجہ یہ بھی تھی کہ جب پوری لکڑمنڈی مغرب سے پہلے بند ہوتی تو فقط یہی دکان بچتی جس پر دوسو واٹ کے فلپس کاجلتا بلب مانندِ شمس نظر آتا۔

 

حمزہ کے کیبن کے بالکل سامنے محلے کی مسجد تھی جس کے برابر میں عبدالرحیم کا گیرج اور آسٹن کے فریج اورریفریجریٹر ریپئیرنگ کی دکان تھی آسٹن ہمارے والد کے بڑے اچھے دوست تھے اس لیے ابا دبئی سے جب بھی آتے تو ان کیلئے کوئی نہ کوئی خاص تحفہ ضرور لاتے اور آسٹن بھی ایسٹر اور کرسمس کا کیک ہمارے گھر بھیجنا نہیں بھولتے۔

 

گولائی(کشتی چوک)کی طرف غلام شاہ کمپاؤنڈ ہے جہاں غلام شاہ بابا کے مزار  اور ہندوؤں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے اسی کمپاؤنڈ میں ایک چھوٹا سا مندر بھی ہے جہاں صبح بھجن اورپوجا چلتی تھی۔

ہمارا علاقہ کبھی کبھی مجھے تقسیم سے پہلے کا ہندوستان لگتا تھا جہاں ایک طرف مختلف اقوام اور زبان بولنے والے تو دوسری طرف ہندو مسلم اور عیسائی تھے جو سب کے سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے نظر آتے۔ کسی کی زبان پر دوسرے کیلئے طنز نہ ہی کوئی مذہب مخالف جذبات۔

 

غلام شاہ لین کی گلی میں داخل ہونے سے پہلے ماما پان والے کی دکان تھی جس کے میٹھے پان پر پورا علاقہ فدا تھا۔ ماما کے پان میں شامل گل قند کی کیا ہی بات تھی کہ جیسے تازہ گلاب کی پنکھڑیاں ابھی ابھی شیرینی میں ڈبوکر پیش کی گئی ہو۔ ماما کے کیبن کے چند قدم پر ہی ماما جمعہ کا مکان ہے جو خود اپنے اندر کئی داستانیں چھپائے کھڑا ہے۔ ماما جمعہ کے چھوٹے بھائی غفور ماما جنہیں ان کے لب و لہجے کی وجہ سے سب خواجہ سرا بھی کہتے تھے گالیوں کی پوری دکان تھے جبکہ کتھک ڈانس ایسا کرتے کہ میناکشی بھی شرما جائے۔

 

غلام شاہ لین کی یوں تو کُل چھ گلیاں ہیں لیکن ہماری سڑک سے نصر اللہ مسجد تک یہ پورا ایک محلہ لگتا ہے۔ غلام شاہ لین ”کُپی“(دیسی شراب)کے حوالے سے نہ صرف لیاری بلکہ شہر بھر میں مشہور رہی ہے۔ یہاں کردار بھی ایک سے ایک تھے اور معتبر شخصیات بھی۔

 

غلام شاہ لین میں سب سے منفرد شخص ”کانو ماما“ ہیں، جو خود تو گدھا گاڑ ی چلاتے ہیں لیکن بڑھکیں ایسی مارتے ہیں کہ بس ملک کی حکمرانی کرنا ہی باقی رہ گئی ہے۔ کانو ماماکی باتیں سن کر لوگ بھی ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کا ایک قصہ بڑا مشہور ہے جس سے آپ کو خود ہی اندازہ ہوجائے گا بقول کانو ماما ’’ایک دفعہ میں نواز شریف کے شیر کا پنجرہ اپنی گدھا گاڑی میں لاد کر کینٹ اسٹیشن پہنچاکر آیا تھا جس پر شہبازشریف اور نوازشریف نے مجھے گلے لگایا تھا‘‘۔ اسی طرح غلام شاہ لین کے ماما نورو بھی کسی سے کم نہ تھے ان کی اپنے گھر کے نیچے ہی چھوٹی سی دکان تھی جس میں وہ پتنگیں اورٹافیاں بیچتے ان کی دو بیویاں تھیں ایک سندھی اور دوسری کلثوم مامی (جوشادی سے پہلے ہندو تھیں) اور دونوں ساتھ ہی رہتی تھیں ان کا گھر شورو غُل کا بازار تھا جومحلے کو ہروقت سر پر اٹھائے رکھتا مگرماما نوروبے چارے سن نہیں پاتے کیوں کہ ان کی قوت سماعت نہ ہونے کے برابر تھی اب ایسا بیویوں کی وجہ سے تھا یاکوئی اوروجہ تھی اللہ ہی جانے۔ علاقے کے بچے ماما نورو کو مونچھوں کو تاؤ دینے کے اشارے دے دے کر چھیڑاکرتے تھے جس پر وہ بھی چپل اتار کر دے مارتے۔

 

غلام شاہ لین میں ماما کانو اور ماما نورو کے علاوہ اہم کرداروں میں جانی واکر جن کی کیرم بورڈ کی دکان تھی، اللہ بخش جسے دوسروں کی کھڑکیوں میں جھانکنے کی عادت پر سب ”اَلوک کھڑکی“کہتے تھے، راجو پُڑا جوہیروئنچی تھا، ابا غلام جو گدھا گاڑی چلاتے تھے، امبر ماسی جن کے چھولے لاجواب تھے، کاکا پیرل جو بینجو ماسٹر تھے، اوجھڑی والی ماسی جو صبح صبح”کامیلا“ سے بکروں کی اوجھڑی کجھور کے پتوں سے بنی ٹوکری میں رکھ کر گھر گھر بیچتی، عبدالرشید بلوچ جو بچو ں کو فری میں ٹیوشن پڑھاتے اور موسیقی کی تعلیم دیتے گٹار اور پیانو بجانا بھی سکھاتے تھے قابل ذکر ہیں۔  غلام شاہ لین کی سب سے معتبر اور قابل احترام شخصیت یوسف بلوچ صاحب کی تھی جنہیں سب یوسف صوبیدار بھی کہتے تھے وہ سندھ پولیس میں ایس ایس پی رینک کے افسر تھے جتنا بڑا ان کا عہدہ تھا اس سے بڑھ کر ان کی شفیق اور بارعب شخصیت تھی۔

 

(لیاری سے لاہور تک کی دلچسپ اور  سنسنی خیز کہانی کا بقیہ حصہ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں)

 

 اس تحریر کے مصنف امجد بلیدی منجھے ہوئے صحافی ہیں جن کے کئی اخبارات و جرائد میں کالم اور بلاگ شایع ہوتے ہیں۔ وہ ایک ٹی وی چینل سے منسلک ہیں جہاں وہ صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دے  رہے ہیں۔ مندرجہ بالا تحریر  ان کی اپنی کہانی ہے جو  خبرکہانی پر قسط وار شائع ہوتی رہے گی۔ امجد بلیدی سے ٹوئیٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.