پاکستان،چین کا مشترکہ مفادات کے تحفظ اور خطےمیں امن کیلئےاجتماعی اقدامات پراتفاق

Pak China agree to safeguard mutual interests


پاکستان اور چین نے اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ اورخطے میں امن خوشحالی اور ترقی کے فروغ کے لئے مل کر اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے جمعہ کو چین کے علاقےہینان میں چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے اسٹرٹیجک مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے دوران ہوا۔ مذاکرات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ چین کی جانب سے اسٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے نمائندگی کی۔

دفتر خارجہ کی طرف سے اسلام آباد میں جاری کی گئی ایک مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق فریقین نے کورونا وائرس کی عالمی وبا، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

فریقین نے کورونا وائرس کی وبا پرقابو پانے کے لئے ایک ویکسین کی تیاری اور مشترکہ مستقبل اور یکساں علاج معالجے پر مبنی چین پاکستان کمیونٹی کے قیام کے لیے تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے اہم قومی مفادات سے متعلق معاملات پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔دونوں فریقوں نے زور دیا کہ پرامن' مستحکم، معاون اور خوشحال ایشیا تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کی جانب سے چینی نمائندوں کو کشمیر کے بارے میں تشویش اور خدشات اور موجودہ اہم امور کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخ کا چھوڑا ہوا حل طلب مسئلہ ہے جو کہ ایک واضح حقیقت ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور' سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی روشنی میں پرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔چین ایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

فریقین نے افغان معاملے پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور افغانوں کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کی بابت افغان حکومت اور طالبان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.