لبنان میں دھماکے، 75 ہلاک اور 3ہزار زخمی

Beirut explosion

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں  دھماکوں میں کم از کم پچھتر  افراد جاں بحق ہوگئے۔ بتایا جارہا ہے کہ دھماکے فائر کریکر بنانے والی فیکٹری کے ویئر ہاؤس میں ہوئے۔

لبنانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے کہ ویئر ہاؤس میں 2ہزار 7سو50 ٹن امونیم نائٹریٹ رکھا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ذمہ داروں کا پتہ نہ چلا لیں۔

ابتدائی طور پر 75افراد کی ہلاکت اور تین ہزار شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، دھماکوں سے متعدد عمارتیں، دکانیں اور گھر تباہ ہوگئے ۔ دھماکے اتنے شدید تھی کہ قریبی شاہراہ پر چلتی گاڑیاں الٹ گئیں جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد کا عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

دھماکوں میں جانی نقصان پرلبنانی صدر اور وزیراعظم نے ملک بھر میں آج سوگ کا اعلان کیا ہے،ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے،برطانیہ کے وزیراعظم نے لبنان کو مدد کی پیشکش کی ہے۔لبنانی وزیراعظم نے واقعے کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

دھماکوں سے قریبی عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ دور کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی اپارٹمنٹس کی بالکونیاں اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔کئی برسوں کے بعد ہونے والے اس طاقت ور دھماکے سے زمین لرز گئی جس سے کئی لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے زلزلہ آگیا ہو۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بیروت میں چھ سو پاکستانی مقیم ہیں، فوری طور پر واقعے میں کسی پاکستانی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی


1 تبصرہ:

  1. لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دھماکوں میں کم از کم پچھتر افراد جاں بحق ہوگئے۔ بتایا جارہا ہے کہ دھماکے فائر کریکر بنانے والی فیکٹری کے ویئر ہاؤس میں ہوئے۔
    islam

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.