اہل ایمان کا سمندر،قسطنطینہ کےاندر




 استنبول کی تاریخی  مسجدآیاصوفیہ میں چھیاسی برس بعد نمازجمعہ ادا کی گئی۔ ترک صدرطیب اردوان سمیت اعلیٰ شخصیات  سمیت ساڑھے تین لاکھ افراد نے   نمازپڑھی۔

تاریخی موقع پرترکی کےچپےچپےسےلوگ پہنچے۔مسجدکےاندرہی نہیں باہر بھی صفیں بنائی گئیں۔  لوگوں کےہاتھوں میں ترکی کے علاوہ فلسطین کےپرچم بھی تھے،سڑکوں پرعید کاسماں رہا۔ جگہ کم پڑنےپرگورنرکواعلان کرناپڑاکہ اب مزیدلوگ  نہ آئیں۔   نمازسے بہت پہلےہی مرداورخواتین کےلیےمختص جگہیں مکمل طورپربھر گئی تھی،گنجائش ختم ہونےپراردگردکی گلیوں، بازار اورسڑکوں پربھی لوگوں نےصفیں باندھ لیں۔

سلطنت عثمانیہ کےخاتمےکے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے آیا صوفیہ کومیوزیم میں بدل دیا تھا،  چند روز قبل ترک عدالت نے دوبارہ  مسجد  بنانےکاحکم دیا۔  آیاصوفیہ میں باقاعدہ پنج وقتہ نماز شروع ہوگئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.