سپریم کورٹ میں دراصل ہوا کیا؟



عدالت عظمیٰ میں آرمی چیف کی توسیع کے خلاف کیس کی سماعت کے  تیسرے دن    اٹارنی جنرل نے نئی سمری پیش  کی،چیف جسٹس نےکہاآپ اس سمری میں عدالت کو کیوں بیچ میں لارہےہیں؟ یہ تو یوں لگ رہا ہے سپریم کورٹ  کے احکامات پریہ سب ہورہاہے،آ پ اپنابوجھ خود اٹھائیں، عدالت کاکندھاکیوں استعمال کررہےہیں؟سمری سےسپریم کورٹ کالفظ نکالیں۔

چیف جسٹس نےاٹارنی جنرل انورمنصور سے کہا آپ نے کل فرمایاتھاجنرل کبھی ریٹائرڈنہیں ہوتا تو بتایا جائے راحیل شریف نےاپنا عہدہ کیسے چھوڑا؟ اور یہ کہ اگر جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتے توانھیں پنشن بھی نہیں ملتی ہوگی۔ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع  کےکاغذات بھی منگوالیں ۔

چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ریمارکس دیےآپ تین سال  کے لیے توسیع دے رہےہیں، کل کوئی قابل جنرل آئےگاتوپھرکیا تیس سال کی توسیع کریں گے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا پارلیمنٹ کوابہام کودورکرنا ہے،جس پر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاعدالت کو یقین دلاتا ہوں آرٹیکل دو سو تینتالیس میں بہتری کرینگے، حلف دیتےہیں دو سو تینتالیس میں تنخواہ الاؤنس دیگرچیزیں شامل کرینگے۔ چیف جسٹس نے کہاہم یہ نہیں کہہ رہےابھی جاکرقانون بناکرآئیں، جو قانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔

چیف جسٹس نےاٹارنی جنرل  کو مخاطب ہوئےکہ آرمی ایکٹ کاجائزہ لیاتو ہمیں  ففتھ جنریشن وارکاحصہ ٹھہرایا گیا بھارتی اورسی آئی اےایجنٹ کہاگیا،آئینی اداروں کےبارے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے، سوال پوچھنا ہمارا حق ہے۔ جس پرہماری بحث کابھارت میں بہت فائدہ اٹھایاگیا،سوشل میڈیا کسی کےکنٹرول میں نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.