کراچی پولیس نےبےرحمی سےایک اورشہری کوقتل کردیا



کراچی میں کینٹ اسٹیشن کے قریب گزری  پولیس تھانے کے اہلکاروں  نے گاڑی پر گولیاں برسائیں۔نوجوان نبیل ہودبھائے جاں بحق،دوست رضا امام زخمی ہوگیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ شیراز نذیر نے تسلیم کیا کہ پولیس نے گاڑی پر گولیاں برسائیں ۔ دونوں دوست ڈر کے بھاگئے ۔زخمی رضا امام نے  بتایا کہ نبیل کے پاس بیئر کا کین تھا، پولیس والے وہاں موجود تھے، ڈر گئے، نہ ہتھیار تھے نہ مزاحمت کی۔

واقعے میں ملوث سب انسپکٹر عبدالغفار، ہیڈ کانسٹیبل آفتاب اور کانسٹیبل محمد علی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل  کی گئی ۔  زخمی رضا امام کی  غم سے نڈھال والدہ  کا کہنا ہے  پولیس  کو اگر شک تھا تو ٹائر پر مارنا چاہیے تھا تاکہ گاڑی رک جاتی، جان گئی وہ تو واپس نہیں آئے گی۔ نیبل کے وکیل نے الزام لگایا کہ پولیس پیٹی بند بھائیوں کو بچانا چاہتی ہے۔فائرنگ سے جاں بحق نبیل کے والدین بیرون ملک مقیم ہیں۔

کراچی میں دو سال کے دوران آٹھ شہری پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔ پولیس فائرنگ سے ایک اور شہری کی ہلاکت نے پھر سوال اٹھادیے۔شہری پوچھ رہے ہیں پولیس سے تحفظ مانگیں یا انہی سے اپنی جان بچائیں؟


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.