وزیراعلیٰ کی ملاقاتیں اوراینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ کےکارنامے



تحریر:طحہٰ عبیدی

کاٹن کا سوٹ پہنتا ہے ، مونچھوں کو تاؤ دیتا ہے ، ایسٹ زون میں دندناتا پھرتا ہے ، کبھی بہادر آباد تھانے میں نظر آتا ہے ، کبھی بریگیڈ تو کبھی جمشید کوارٹر اور سولجر بازار سے آپریٹ کرتا ہے ۔   ویسے تو ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کی خواہش ہے اسپیشل پارٹیاں ختم کردی جائیں ، سادہ لباس اہلکار چھاپہ بھی نہ ماریں لیکن اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ کو مکمل آزادی ہے ۔  یہ ایک چیمپئن ایس ایس پی کے خاص آدمی مطلب چہیتے ہیں ، اس لیے ایسٹ زون کے تھانیدار خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔

 ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ایمانداری پر شک نہیں لیکن ان کی سربراہی میں اس طرح کے کردار محکمہ  پولیس  کو رسوا کریں گے ۔ عمران گجر نامی پولیس اہلکار ہے؟  ہیڈ کانسٹیبل ہے ؟ انسپکٹر ہے؟ یا  اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ کا انچارج  ؟ ایسٹ زون میں کیا فرائض انجام دیتا ہے ، اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ میں عہدہ کیا ہے ؟ کتنے جوانوں کی نفری لے کر گھومتا ہے ؟ پیٹرول ڈیزل کتنا ملتا ہے ؟ اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ کے ضلع ایسٹ میں اسٹریٹ کرائم کی شرح کیا ہے ؟عمران گجر نامی پولیس افسر یہ بھی بتانے سے قاصر ہے ۔ عمران گجر عرف آئی جی نامی پولیس اہلکار کے کارناموں کی فہرست تو بہت لمبی ہے لیکن چند حقائق بیان کرنا ضروری ہیں ۔

ایسٹ زون کے اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈ نے 9 اکتوبر 2019 کو سولجر بازار سے 111 افراد کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر عبدالسلام کو گرفتار کیا ، یکم نومبر کو ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر سلیم قریشی کو گرفتار کیا ، یہ ٹارگٹ کلر 29 افراد کے قتل میں ملوث ہے ، ان افراد کو گرفتار کرکے کیا مقدمات درج کیے گئے ، ایسٹ زون کے چیمپئن افسران مقدمات کی ایف آئی آر فراہم کرنے سے انکاری ہیں ، ان گرفتاریوں کے بعد ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں خطرناک ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والے کو گرفتار کیا ، پولیس کی پریس ریلیز بتاتی ہے ، یہ خطرناک ٹارگٹ کلر 96 افراد کو قتل کرچکا ہے ، اس ‘‘ٹھیلے والے’’ ٹارگٹ کلر کو سندھ رینجرز نے 24 اگست 2017 کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا ، 96 افراد کا ٹارگٹ کلر سندھ رینجرز کی آنکھ میں دھول کیسے جھونک گیا اس کا علم تو نہیں لیکن جب اس ٹارگٹ کلر کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تو ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ میر پور خاص میں روپوشی کاٹ رہا تھا ، بچوں کی یاد آئی تو سندھ رینجرز کو گرفتاری دے دی ، خطرناک ٹارگٹ کلر رینجرز کو گرفتاری دیتا ہے اور لگ بھگ دو سال بعد  ایک بار  پھر دھرلیا جاتا ہے یہ ایک حیران کن بات ہے ، یوسف ٹھیلے والا عجیب ٹارگٹ کلر ہے جس سے وزیراعلی سندھ بھی ملتے ہیں البتہ ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر اس ٹارگٹ کلر کے خلاف درج ایف آئی آر بھی دینے سے قاصر ہیں ۔

ایسٹ زون پولیس کو بھتہ دینے والے ایک شہری احمد شاہ نے آئی جی سندھ کلیم امام اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کو ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایچ او سولجر بازار اور ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر نے حبس بے جا میں رکھا اور بھتہ وصول کرکے چھوڑ دیا ۔  قصہ کچھ یوں ہے سادہ لباس اہلکاروں نے سولجر بازار سے چار افراد کو حراست میں لیا، چرس فروخت کرنے  کا  الزام عائد کیا اور لاکھ روپے بھتہ وصول کرکے چھوڑ دیا ۔  عمران گجر تو اس معاملے کا جواب دینے سے بھی قاصر ہے ، عمران گجر کو انکاؤنٹر کرنے کی دھمکیاں دینے کا بڑا شوق ہے اور زیر حراست افراد کو ننگا کرکے ویڈیو بنانے کا مشغلہ ہے ، اس درخواست میں پولیس اہلکار ندیم گجر ، امان اللہ ، محمد وقاص اور آغا کا ذکر کیا گیا ہے ، یہ درخواست گزار انصاف کا متلاشی ہے ۔

ایسٹ زون کے چیمپئن پولیس افسر کو پریس کانفرنس کرنے کا بہت شوق ہے ، گزشتہ سال آئس کرسٹل کے دھندے میں ملوث ایک گروپ کو گرفتار کیا گیا ، اس گروپ کی نشاندہی کرنے والے مخبر نے رقم کا مطالبہ کیا تو بہادرآباد تھانے میں عمران گجر نامی پولیس اہلکار نے ننگا کرکے ویڈیو بنائی ، تشدد کا نشانہ بنایا ، منشیات اور غیر قانونی اسلحے کا مقدمہ درج کیا ، عادل نامی پولیس اہلکار نے تمام ڈیل کی ، اس مخبر کے پاس تمام شواہد موجود ہیں ، یہ  مخبر چار ماہ بعد جیل کاٹ کر گھر آچکا ، اگر مخبری کی سزا جیل اور جعلی مقدمہ ہے تو تو ٹھیک ورنہ یہ مخبر انصاف کا منتظر ہے ۔

ضلع ایسٹ کی ایک اسپیشل پولیس پارٹی نے مبینہ طور پر چھالیوں کے گودام کو خالی کیا اور 22 لاکھ روپے کی چھالیاں فروخت کردیں۔  ایک اور گودام پر چھاپہ مار کر 7 سو کلو گرام چھالیہ برآمد کیں 400 کلو گرام چھالیہ فروخت کردیں اور چھالیوں کا کاروبار کرنے والے شخص کو مبینہ طور پر 6 لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا ، چھالیوں کا کام غیر قانونی ہے تو گرفتار کیوں نہ کیا گیا اور پیسے لے کر کیوں چھوڑ دیا گیا ؟اس حوالے سے بھی اعلیٰ پولیس افسران بتانے سے گریزاں ہیں البتہ پولیس پارٹی کو رقم فراہم کرنے والے چھالیہ مافیا کے کارندے اعلیٰ افسران کے روبرو پیش ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی ان تمام افراد کو انصاف فراہم کریں ، اگر یہ ممکن نہیں تو ‘‘اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ’’ کیلئے تالیاں بجائیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کے مصنف  طحہٰ عبیدی نوجوان مگر توانائی سے بھرپور صحافی ہیں ، سندھ پولیس اور جرائم پر تحقیقاتی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ طحہٰ عبیدی سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.