فیصلہ تاریخی ہے،کوئی تلوار نہیں لٹک رہی،حکومت



آرمی چیف کی توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومتی ٹیم نے پریس کانفرنس کی۔  سابق وزیرقانون اور حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے کہا آرمی چیف کی مدت آج رات بارہ بجےشروع ہوگی، چھ ماہ بعدختم نہیں ہوگی۔ جنرل کیانی کےوقت بھی توسیع پرعدالت میں درخواست گئی تھی، اگر معاملہ  اس وقت نمٹادیاجاتاتوآج یہ صورتحال نہ پیداہوتی۔ اٹھارہویں ترمیم کےبعد دوحکومتیں آئیں یہ قانون ٹھیک نہیں کیاگیا،جس نے اٹھارہویں ترمیم بنائی ان سےپوچھیں یہ قانون ٹھیک کیوں نہیں کیاعمران خان کی حکومت آئی تواس معاملےپرکہہ دیایہ ہوگیاوہ ہوگیا۔

فروغ نسیم نے کہا  کہ آئین اورقانون کی مضبوط کےلیےیہ معاملہ بہترین اندازمیں نمٹایاگیا۔ حکومت کی کوئی سمری مستردنہیں ہوئی،عدالت نےجیسےرہنمائی کی ہم نےکیا،عدالت لیگل تجویزنہیں دےسکتی پھربھی انہوں نےمعاونت کی،قانون نہ ہونےکی وجہ سےابہام پیداہواجسے ختم کردیاگیا آرمی چیف کی مدت سےمتعلق قانون لایاجائےگا، عدالت کی جانب سےقانون سازی کیلئے چھ ماہ کاوقت دیاگیاہے۔

 اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا  سپریم کورٹ کے فیصلے سے مستقبل میں بھی رہنمائی ہوگی، آرمی ایکٹ آج تک چیلنج نہیں ہوانہ ہی اس پرکوئی بات ہوئی،روایت چلنےکی وجہ سےاس قانون پرکبھی کسی نےتوجہ نہیں دی،عدالت نےپہلےمرتبہ اس قانون کودیکھاجس میں رہنمائی کی گئی، باربارترامیم کامقصدیہ ہی تھاکہ منظم قانون سازی کی طرف جائیں،حکومت کی جانب سےآخری نوٹیفکیشن کوعدالت نےمنظورکیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا یہ ایک حساس معاملہ تھا،عدالت نےبھی اس کوایسے ہی بیان کیا،آرمڈفورسزکی توجہ دفاع پرہےجن کامورال بلندہوناضروری ہے،معاملےپرپاکستان دشمنوں نےفائدہ اٹھانےکی کوشش کی۔  معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا پاکستان کوغیرمستحکم کرنےوالوں کےخواب آج چکناچورہوئے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.