عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل فارن فنڈنگ کیس سے وابستہ؟


  
الیکشن کمیشن نے  حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کر لیا۔ الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کی درخواست منظور کرلی۔ چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی میں دو اراکین نے اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر فیصلہ لکھوایا۔ چھبیس نومبر سے پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کی کارروائی روزانہ کی بنیاد پر چلے گی۔پی ٹی آئی کے بانی رکن  اکبر ایس بابر کی درخواست پر دائر یہ کیس الیکشن کمیشن میں   گزشتہ پانچ سال سے زیر التوا ہے ۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے بدھ کو  الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیا تھا اور الیکشن کمیشن میں ایک درخواست  بھی پیش کی تھی کہ کیس کے سماعت روزانہ کی بنیاد پرکی جائے۔

اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا پارٹی فنڈنگ کیس روزانہ چلانےپرالیکشن کمیشن کے شکر گزارہیں، عوام جلد خوش خبری سنیں گے،تبدیلی آرہی ہےاس کےاثرات دیکھ رہے ہیں، ہم کامیابی سےلوٹ کرگئےہیں،اصل مطالبہ عنقریب پورا ہوگا، صرف عمران خان نہیں پوری پارٹی جائےگی۔ن لیگ کے رہنما احسن اقبال  نے کہا پی ٹی آئی کےتئیس بےنامی اکاؤنٹس پکڑےجاچکےہیں ،  اسٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے ان اکاؤنٹس سے مختلف پی ٹی آئی رہنما  ٹرانزیکشن کرتے ہیں جن میں لاکھوں ڈالر ہیں،قوم جاننا چاہتی ہے بھارت سے کس نے آپ کی فنڈنگ کی۔ خان صاحب  پی ٹی آئی کی بیرونی فنڈنگ پرمنی ٹریل  پیش کیوں نہیں کرتے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ٹویٹ کیا کہ الیکشن کمیشن کوآخرکیوں پی ٹی آئی کےاکاؤنٹس کی فکرلاحق ہوگئی،الیکشن کمیشن کو اتنےسال بعد پی ٹی آئی پرالزامات کا خیال کیوں آیا، نکالےگئے شخص کےالزامات پرپی ٹی آئی کیخلاف کیوں کارروائی ہورہی ہے،معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا  الیکشن کمیشن کو یرغمال بناکراثراندازہونےکی کوشش کی مذمت کرتے ہیں، احتساب سےراہ فرار اختیار کرنے والےنہیں،وزیراعظم آئین کی حکمرانی اوربلا تفریق احتساب کےداعی  ہیں،قوم گواہ  ہےسب سےبڑی عدالت نے کسےصادق،امین قراردیااورکون بددیانت ٹھہرا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.