آرمی چیف کی مدت ملازمت میں6ماہ کی توسیع



سپریم کورٹ نے جنرل قمرجاوید کے بطور آرمی چیف تقرری سے متعلق کیس کا فیصلہ  سنادیا۔  سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے  جنرل  قمر جاویدباجوہ کی موجودہ تقرری پارلیمنٹ کی قانون سازی سےمشروط ہوگی۔ حکومت نےچھ ماہ میں قانون سازی کی تحریری یقین دہانی کرائی۔ مدت آج سے ہی شروع ہوگئی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا  حکومتی مؤقف کےمطابق آئین میں ایسی کوئی شق نہیں جس میں مدت ملازمت کا تعین ہو۔ نئی قانون سازی آرمی چیف کی مدت اور قواعد و ضوابط کا تعین کرےگی۔ پارلیمنٹ آرٹیکل دوسوتینتالیس کےدائرہ اختیارکوبھی واضح کرے۔آرمی چیف  کی سروس کی شرائط ،مدت کوقانون  سازی کےذریعےواضح کیاجائے۔

 عدالت نے کہا ہے تحمل کامظاہرہ کرکےمعاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں،پارلیمنٹ آرٹیکل دوسو تینتالیس اورملٹری ریگولیشن دوسو پچپن کےسقم دورکرے،تحریری بیان کی بنیاد پر حکومت کاجاری کردہ نوٹیفکیشن درست قراردیتےہیں،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ اپنی ملازمت جاری رکھیں گے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق  جنرل قمرجاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف مدت میں توسیع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا،  وفاقی حکومت معاملےپراپنا مؤقف بدلتی رہی۔کبھی آرٹیکل دوسوتینتالیس پر انحصارکیاگیااورکبھی ریگولیشن دو سو پچپن پر۔اٹارنی جنرل نے آج  جنرل  قمر جاویدباجوہ  کی بطورآرمی چیف تقرری دستاویزدکھائیں۔ اٹارنی جنرل کی معاونت سےہم مدت ملازمت کےحوالےسے قانونی نقطہ تلاش نہیں کرپائے۔ کیا آرمی  چیف کو دوبارہ تقرر  یا توسیع  دی جا سکتی ہےایساکوئی نقطہ نہیں ملا۔ہمارے سوالات پر اٹارنی جنرل کے جوابات پاکستان آرمی میں رائج روایات پر منحصرتھے، اٹارنی  جنرل نےواضح  یقین دہانی کرائی روایات کوقانونی شکل  دی جائیگی۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ  کی سربراہی میں تین  رکنی بینچ نے کی ۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہرعالم میاں خیل شامل تھے۔


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.