طالبان کیا چاہتے ہیں؟



افغان طالبان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ افغانستان میں خونریزی روکنے کا واحدحل بات چیت ہے  اس لیے امریکی صدر کے حالیہ  بیانات اور مذاکرات  کی  منسوخی پر افغان طالبان نے جذباتی بیانات دینے سے گریز کرتے ہوئے واضح کردیا کہ وہ سو سال تک بھی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن تمام ترمسائل کا حل صرف مذاکرات ہی ہیں۔

 برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں طالبان کے مرکزی مذاکرات  کار  شیرمحمد عباس ستانکزئی نے ایک بار پر زور دیا کہ  افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں فریقین معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے معاملات اس  حد تک بہتری کی جانب گامزن تھے کہ صدر  ٹرمپ نے آٹھ ستمبر کو سینئرطالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی۔چھ ستمبر کو کابل حملےمیں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر مذاکرات منسوخ کردیے کہ اگر طالبان مذاکرات  کے دوران جنگ بندی نہیں کرسکتے تو شائد ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں۔

عباس ستانکزئی  کا کہنا ہے کہ  طالبان نے کچھ غلط نہیں کیا، امریکا نے ہزاروں طالبان کو مارا ، اگر ایک فوجی کی ہلاکت ہوتی ہے تو اس پر  ان کا ردعمل غیرمناسب ہے کیونکہ ابھی تک فریقین نے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ مذاکرات  کے لیے طالبان کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، امید ہے دوسرا فریقی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔

طالبان رہنما نے کہا امریکا سے معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں افغانوں کے مابین مذاکرات  تئیس  ستمبر کو شروع ہونے تھے اور وسیع تر جنگ بندی بھی ان مذاکرات کا حصہ تھی۔انھوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی مذاکرات میں مدد حاصل کرنے کے لیے طالبان نے روس اور چین دونوں سے رابطہ کیا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.