کراچی کے پارک اجڑگئے۔ میئر کےمشیر کا گھر محل بن گیا



 کراچی اجاڑنےوالا ایک ذمہ دار قانون کے شکنجےمیں آگیا۔سابق ڈی جی پارکس اورمیئرکراچی کےمشیر لیاقت قائم خانی نے شہر کے پارک  اجاڑکر شاہی محل بنایا۔ نیب نےلیاقت قائم خانی کو باغ ابن قاسم کیس میں بدھ کو گرفتار کیا تھا اور جمعرات کو  نیب راولپنڈی نے کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع ان کی عالیشان رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ لیاقت قائم خانی کے گھر سے کروڑوں روپے مالیت کی چودہ لگژری گاڑیاں، بانڈز، جائیدادوں کی دستاویزات، سونے کے کف لنکس ،زیورات  اورجدید اسلحہ برآمد ہوا۔

  بیس گریڈ کےافسر کےگھرکاایک ایک کمرہ لاکھوں کروڑوں کےآرائشی سامان سےمزین ہے،چھاپہ مارٹیم کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ گھر کا   باتھ روم ہی دو مرلے کا  ہے جس میں باتھ ٹب کے علاوہ مسہری  اور ٹی وی تک  لگا ہے۔ گھر کے دروازے  ریموٹ کنٹرول سے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ نیب کوگھرسے کراچی اورلاہورکےبنگلوزکی دستاویزات ، کےایم سی کی فائلیں اور دو  بڑے  لاکر بھی ملے، جنہیں ابھی تک کھولا نہیں گیا ہے۔


  لیاقت قائمخانی پربطورڈی جی پارکس جعلی ٹھیکےدینےکا الزام ہے۔ملزم کاتین روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرلیا گیا ہے۔ کرپشن کےالزام میں گرفتارلیاقت علی قائم خانی کراچی میں  حکمرانوں کے بہت قریب رہا  ، سابق ڈی جی پارکس کو وہزار   آٹھ  میں تمغہ امتیاز اور دو ہزارگیارہ میں ستارہ امتیاز بھی دیا گیا۔

 اہل اقتدار کے ہر بڑے فوٹو فریم میں فٹ ہونیوالے  لیاقت علی قائم خانی نعمت اللہ خان کے دور میں دو ہزار ایک سے پانچ تک ڈی جی پارکس رہا ،مصطفیٰ کمال ناظم بنے تو لیاقت علی کو ہی باغات کا محکمہ سونپا۔ لیاقت علی سابق گورنر ،وزیر اعلیٰ اور پرویز مشرف کے فیتا کاٹنے کی تصویروں میں بھی ساتھ نظر آیا۔ کراچی کے باغ اجاڑنے والے کو دو ہزار آٹھ میں عشرت العباد نے تمغہ امتیاز جبکہ دو ہزار گیارہ میں سابق صدر آصف زرداری نے ستارہ امتیاز سے نوازا۔ دو ہزار بارہ میں لیاقت علی کرپشن چارجز میں نامزد  کیا گیا۔ لیاقت علی پربے نظیر بھٹو پارک کی تعمیر میں کرپشن کا الزام لگا۔ دوہزار سولہ میں وسیم اختر نےسابق سرکاری ملازم کو مشیر  باغات لگادیا ۔لیاقت علی دو ہزار دس اور دو ہزار انیس میں  باغ ابن قاسم کے افتتاح کے وقت موجود تھا ۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.