پیپلزپارٹی کو ایک اور بڑا دھچکا، بلاول برہم



نیب نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کرلیا۔  نیب راولپنڈی اور سکھر نے کارروائی کرتے ہوئے سابق اپوزیشن لیڈر کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیکر نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کیا،  اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد انہیں سکھر منتقل کیا جائے گا۔

نیب نے رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کے خلاف سات اگست سے تحقیقات کا اغاز کیا تھا اور انھیں متعدد بار تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا تھا۔ نیب نے سید خورشید شاہ کو بدھ کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم انہوں نے نیب کو خط لکھ کر یہ کہہ کر پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی کہ وہ اسلام آباد  میں ہیں اس لیے وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے۔

اس صورت حال کے بارے میں نیب سکھر نے چیئرمین نیب کو آگاہ کیا جس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خورشید شاہ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

خورشید شاہ کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، گرفتاری کی خبر سن کر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس طلب کیا۔ بعد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو حکومت پر برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے، حکومت کشمیر کاز سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح اقدامات کررہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارٹی نے احتجاج کی حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.