ہمارا قصور کیا؟




 ماحولیاتی تبدیلی کے پیش نظر اور آلودگی میں کمی کے لیے  ملک بھر میں درخت لگائے جارہے ہیں لیکن کراچی کا تو باوا  آدم ہی نرالا ہے، یہاں الٹی گنگا بہنے لگی۔ ناظم آباد کی عثمانیہ سوسائٹی میں نیم کے قیمتی درخت بے دردی سےکاٹ دیے گئے۔ یہ یونین کونسل پچاس  کا بدقسمت علاقہ ہے جہاں یوسی انتظامیہ نے اے یو اسلامیہ گورنمنٹ  اسکول کے اطرف  تراش خراش اور چٹھائی کے نام پر نیم کے درختوں کا ستیاناس کردیا ۔

  علاقہ مکین حیران و پریشان ہیں کہ ایک طرف ملک بھر میں شجرکاری کی حوصلہ آفزائی کی جارہی ہے حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان خود اس میں دلچسپی لے رہے ہیں اور دوسری جانب کراچی میں شجرکاری مہم تو دور کی بات پرانے درخت ہی کاٹے جارہے ہیں۔


یوسی چیئرمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسکول پرنسپل کی درخواست پر  درخت کٹوانے کی ہدایت کی تھی۔  مسائل میں گھرے شہر کے باسیوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف کراچی میں شجرکاری مہم پر توجہ دی جائے بلکہ درختوں کی کٹائی کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.