سڑکوں پر جمع بارش کا پانی بےکار نہیں، کراچی کے طلباء کا کارنامہ


  رپورٹ: سید نعمان الحق قادری 

دنیا بھر میں لوگ ملازمت کے بجائے اپنے کاوبار کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے کام میں بھی اسٹارٹ اپ کا آئیڈیا سب سے زیاد ہ فروغ پا رہا ہے،اس کی سب سے اہم وجہ ترقی کے بےپناہ مواقع ہیں اسی لیے بدلتی دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے، جہاں ایک پاکستانی بزنس اسٹوڈنٹ ہدیٰ غریب نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستانی طالب علموں کو اسکول کی سطح پر اسٹارٹ اپ کلچر سے روشناس کرایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ ان میں آنٹرپرینیورشپ اسکلز کو پروان چڑھایا جائے۔ اس مقصد کے تحت ہدیٰ غریب نے کراچی کے مختلف اسکولوں   کے طلبہ و طالبات کو" ای میجین" کے زیر اہتمام " بزنس آئیڈیاز " ڈیئر ٹو امیجن ویژنز تھری پوائنٹ زیرو کا انعقاد کیا ، جہاں کراچی کے سو سے زائد اسکولوں  کے کم و بیش چار سو طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

 اس ایونٹ کا فارمیٹ جہاں ان اسٹوڈنٹس کے لئے دلچسپ تھا وہیں ان کے ہنر کو  نکھار کے لئےمنفرد بھی تھا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں ہر اسٹوڈنٹ گروپ نے بزنس لیڈرز کے ساتھ بیٹھ کر اپنے آئیڈیاز  پر کام کیا  اور دوسرے حصے میں ان آئیڈیاز  کو ججوں اور حاضرین کے سامنے پیش کیا۔

ایونٹ  میں بہترین بزنس آئیڈیا کا ایوارڈ پہلی پوزیشن کے ساتھ سٹی اسکول معمار کیمپس کے طالب علم انعم کاشف اور زوہیب صدیقی سمیت ٹیم نے حاصل کیا۔ اس ٹیم  نے بارش کے بعد سڑکوں پر جمع ہونے والے گندے پانی کی ری سائکلنگ اور انہیں بروقت قابل استعمال بناکر  ضرورت مند علاقوں   تک پہنچانے کا آئیڈیا  پیش کیا۔ دوسرا انعام  سٹی اسکول درخشاں کیمپس کی سیدہ حور عین اور ان کی ٹیم نے حاصل کیا۔ اس ٹیم نےنابینا افراد کے لئے ایک آلے  کا آئیڈیا پیش کیا جس کی مدد سے ان کی بینائی واپس لائی جاسکے گی۔

تیسرا انعام بیکن لائٹ اسکول کے محمد بلال قریشی اور ان کی ٹیم نے حاصل کیا جنہوں نے طلبا   کے لئے ایک اسمارٹ پیجر کا آئیڈیا پیش کیا جس کے ذریعے وہ روزانہ  اسکول،کالج اور یونیورسٹی ورک کو بخوبی انجام دینے کے ساتھ ساتھ بیگ کے بوجھ سے بھی آزاد ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ  دیگر  طلبہ و طالبات نے بھی منفرد آئیڈیاز  پیش کیے جن میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سماجی مسائل کا حل اور کچرے کو ری سائیکل کے ذریعے منفرد پراڈکٹس کے آئیڈیاز کو  حاضرین نے خوب سراہا۔

اس موقع پر ایڈورٹائزنگ گرو  جاوید جبار نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستانی اسکول  اپنے طلبہ وطالبات کو کاروبار  کے وہ گر سکھارہے ہیں جو شاید انہیں جامعات  کی سطح پر جاکر پتہ چلتا یہ  واقعتا ایک بڑی تبدیلی ہے جس کا ہمیں شدت سے انتظار تھا اور اس کا سارا کریڈٹ ہدیٰ غریب کو جاتا ہے جنہوں نے ان اسکولوں  کی انتظامیہ کو قائل کیا کہ وہ اپنے طلبہ و طالبات کو اس مقابلے کا حصہ بنائیں ۔

 سی ای او ٹیک پاکستان کنول مسعود کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکہ میں سمر اسکولز بچوں میں بزنس کرنے اور انہیں آئیڈیاز پر کام کرنے کی تربیت دیتے ہیں، ہماری بد قسمتی رہی کے ہم نے اپنے نصاب کو تبدیل نہیں کیا لیکن ہدی ٰغریب کا اس طرح سے بچوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا قابل تحسین ہے ۔ پاکستانی اسکولوں  کو اس مقابلے میں اس قدر دلچسپی سے شرکت کرنا  حیران کن بھی ہے اور باعث مسرت بھی کیونکہ یہ میری زندگی کا مشن ہے کہ پاکستان کے ہر اسکول تک پہنچ کر  انہیں اسمال بزنس اور اسٹارٹ اپس کی جانب لے کر آوں تاکہ یہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور بیروزگاری کے خاتمے کے لئے مددگار ثابت ہوسکیں ۔

ان  منفرد مقابلوں کی خالق ہدٰی غریب کا کہنا تھا ہمیں پاکستان میں بزنس اسٹارٹ اپس کو اسکول کی سطح پر نصاب کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ معیشت کو دنیا کی مستحکم معیشتوں میں شامل کرا سکیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.