مودی سرکار کےغیرقانونی اقدام پر پاکستان کا سخت جواب



 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام پر پاکستان کا سخت ردعمل۔ اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔  نئی دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو واپس نہیں بھیجاجائے گا۔دفترخارجہ نے بھارت کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا۔  وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بڑے فیصلے کیے گئے۔اعلامیہ کے مطابق بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے جبکہ طرفہ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، دو طرفہ معاہدوں پر  بھی نظر ثانی کی جائے گی۔  مسئلہ کشمیر  کو  اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل لے جایاجائے گا۔   قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چودہ اگست کو بہادر کشمیریوں سے یوم یکجہتی کے طور پر منایاجائے گا  جبکہ  پندرہ اگست بھارت کے یوم آزادی کو  یوم سیاہ منایا جائے گا۔ وزیراعظم  نے  بھارتی عزائم بےنقاب کرنےکیلئےسفارتی ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کردی اور  مسلح افواج کو سرحدوں پر ہائی الرٹ کردیا گیا۔     

دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد  میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ فیصلہ قبول نہیں،مقبوضہ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کےتحت ہی ممکن ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور  شہری آزادی پر پابندی قبول نہیں، مقبوضہ وادی  میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، پاکستان حکومت اورعوام کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ  کھڑے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے معاملات کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنادیا ہے،  ب یہ عالمی مسئلہ بن گیا ہے، غیرقانونی فعل پربھارت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، راجیہ سبھامیں کہا گیا مودی نے چوری سے کشمیرکی حیثیت ختم کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  بھارت نے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار دی، دلی حکومت کشمیر سے کرفیو اٹھائے پھر دنیا دیکھے گی وہاں کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  پاکستان نے سلامتی کونسل کے ہر رکن کے سامنے معاملہ اٹھادیا، چین کےساتھ رابطے میں ہیں اور لائحہ عمل بنارہے ہیں


1 تبصرہ:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.