نواز اور زرداری پیسہ دیکر چلے جائیں، وزیراعظم



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس نے باہر جانا ہے لوٹا ہوا پیسہ دےاورچلاجائے،کسی کو این آر او نہیں ملے گا،این آر او کے لیےدو ملکوں سے سفارش آئی تھی لیکن میں کسی کا پریشر نہیں لوں گا۔ حدیبیہ پیپر مل منی لانڈرنگ کاکیس ہے جوپی پی پی حکومت نے کیاتھا،اسی طرح سرے محل کا کیس ن لیگ نے دائر کیا تھا،پرویز  مشرف نے این آراو دےکردونوں جماعتوں کو بچایا،دونوں جماعتوں نے دس سال میں ملک برباد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کےحکمران اور ان کے بچے سب منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، حسن نواز لندن کے تینتالیس ملین ڈالر کے گھر میں رہتاہے، شہبازشریف کےبچوں کاٹی ٹی کیس منی لانڈرنگ ہے،پہلے خسارہ چھوڑ کر جاتے ہیں پھر ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی،وزیر قانون سے کہوں گا جیل میں وی آئی پی کلاس ختم کی جائے، کرپشن کرنے والوں سے عام قیدیوں کی طرح برتاؤ کرنا چاہئے۔ نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف باہر علاج کراناچاہتے ہیں تو ملک کاپیسہ واپس دیں،جہاں جانا ہے چلے جائیں،این آراو تو ہونا نہیں ہے پلی بارگین ہوسکتی ہے، آصف زرداری کومشکل ہے تو ملک کا پیسہ واپس دیں۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ایسی کوئی شرط نہیں کہ ڈالر کی قدر بڑھائی جائے نہ ہی  کسی قسم کا ریٹ فکس ہوا،مشکل مہینہ نکل گیا ہے ،ڈالر کی قیمت بہتر ہوجائےگی۔ ہر پاکستانی کی زبان پر معیشت کاسوال ہے،حکومت کو ملک کا سب سے بڑا خسارہ ملا۔ ڈالرکی قدرکیوں بڑھی اس کی وجہ  جاننےکی ضرورت ہے،منی لانڈر نےاصل قیمت کم رکھ کر زیادہ ڈالرز باہر بھیجے۔ حکمران طبقےنے ڈالر باہر بھیجنے کیلئے قیمت مصنوعی رکھی،ماضی میں روپے کو مصنوعی طور پر اوپر رکھنے کی کوشش کی گئی،روپے کی قدر بڑھانے کیلئےایک سال میں سات ارب ڈالر خرچ کیاگیا، پچھلی حکومت نے چودہ ارب ڈالر کے کمرشل قرضےلئےہوئے تھے۔ دوست ممالک مدد نہ کرتے توہم اب تک دیوالیہ ہوچکے ہوتے، بڑے پیمانے پرمنی لانڈرنگ نہ ہوتی توملک خسارےمیں نہ ہوتا۔ معیشت درست سمت میں جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے تین جولائی کو میٹنگ ہے،جلد افراتفری ختم ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاستدانوں کی بےنامی پراپرٹیز کل سے ضبط ہونا شروع ہوں گی۔ بےنامی جائیدادوں کی فہرست ہمارے پاس آچکی ہے۔تین جولائی کے بعد بےنامی جائیدایں تحویل میں لی جائیں گی۔لوگوں نے نوکروں کےنام پر بےنامی پراپرٹیزلےرکھی ہیں۔ خانساماں اورڈرائیورکےنام پرآنےوالاپیسہ بےنامی ہے سب ضبط ہوگا۔ ماضی میں جس طرح پاکستان چلایاگیااب ایسا ممکن ہی نہیں ہے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی اور کی طاقت سے نہیں عوام کی طاقت سے آیا ہوں۔ ذوالفقار بھٹو کے علاوہ کوئی اصل لیڈر نہیں آیا۔ جولیڈرعوامی مینڈیٹ پرنہیں آتاتووہ دوسرے کے رحم وکرم پرہوتاہے، دورہ امریکا  میں پاکستان کی بات کروں گا، امریکا میں کوئی شاہ خرچیاں نہیں ہوں گی بلکہ پاکستانی سفارتخانے میں قیام کروں گا۔



1 تبصرہ:

  1. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ایسی کوئی شرط نہیں کہ ڈالر کی قدر بڑھائی جائے نہ ہی کسی قسم کا ریٹ فکس ہوا،مشکل مہینہ نکل گیا ہے ،ڈالر کی قیمت بہتر ہوجائےگی۔ ہر پاکستانی کی زبان پر معیشت کاسوال ہے،حکومت کو ملک کا سب سے بڑا خسارہ ملا۔ ڈالرکی قدرکیوں بڑھی اس کی وجہ جاننےکی ضرورت ہے،منی لانڈر نےاصل قیمت کم رکھ کر زیادہ ڈالرز باہر بھیجے۔ حکمران طبقےنے ڈالر باہر بھیجنے کیلئے قیمت مصنوعی رکھی،ماضی میں روپے کو مصنوعی طور پر اوپر رکھنے کی کوشش کی گئی،روپے کی قدر بڑھانے کیلئےایک سال میں سات ارب ڈالر خرچ کیاگیا، پچھلی حکومت نے چودہ ارب ڈالر کے کمرشل قرضےلئےہوئے تھے۔ دوست ممالک مدد نہ کرتے توہم اب تک دیوالیہ ہوچکے ہوتے، بڑے پیمانے پرمنی لانڈرنگ نہ ہوتی توملک خسارےمیں نہ ہوتا۔ معیشت درست سمت میں جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے تین جولائی کو میٹنگ ہے،جلد افراتفری ختم ہوگی۔
    services

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.