وزیراعظم کا پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کا اعلان


Imran Khan addressing the nation

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ کمیشن وفاقی تحقیقاتی ادارے' انٹیلی جنس بیورو' آئی ایس آئی' ایف بی آر اور سٹاک ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا۔

بجٹ سے متعلق وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا پہلا بجٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ میری حکومت ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کے لئے پرعزم ہے۔عمران خان نے کہاکہ ریاست مدینہ ایک دن میں قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے ایک فلاحی ریاست بننے کے لئے ایک عمل سے گزارا گیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کو ہمارے دور حکومت میں پاکستان میں تبدیلی نظر آئے گی۔

وزیراعظم نے اعادہ کیاکہ وہ بدعنوان اور لوٹ مار کرنے والوں سے این آر او نہیں کریں گے کیونکہ گزشتہ دو این آر اوز میں ملک کو بھاری نقصان ہوچکا ہے جس کے نتائج ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور انہوں نے خبردار کیاکہ وہ ان کی بلیک میلنگ اور دباؤ میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو اور عدلیہ آزاد ہیں اور کوئی بھی ان اداروں پر دباؤنہیں ڈال سکتا۔

وزیراعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کے کسی دباؤ یا بلیک میلنگ میں آئے بغیر احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے مختلف ملکوں کے ساتھ معاہدے طے کرنے کے بعد بیرون ملک سے معلومات حاصل کی ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دس ارب ڈالر کے کھاتوں کا پتہ لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالاتھا تو حسابات جاریہ کا خسارہ تقریباً ساڑھے انیس ارب ڈالر تھا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور روپے کی قدر میں کمی پوری معیشت کو بحران کی جانب دھکیل سکتی تھی تاہم اب ملکی معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔

مالیاتی بجٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے معاشرے کے نادار طبقے کی مدد کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کے ذریعے پچاس ارب روپے کی بچت کی ہے جبکہ کابینہ کے ارکان نے اپنی تنخواہوں میں سے دس فیصد کٹوتی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے پاک فوج کی جانب سے اپنے سینئر افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا۔عمران خان نے کہا کہ وہ ٹیکس وصولی کے لئے ایف بی آر کے چیئرمین کے ساتھ ملکر کام کریں گے اور اس مقصد کے حصول کیلئے تمام رکاوٹیں دور کرکے ٹیکس وصولی کا عمل آسان بنایا جائے گا۔حکومت کاروبار کرنے میں آسانی بنارہی ہے اور صنعتوں کو اعانت کررہی ہے۔وزیراعظم نے قوم سے ٹیکس ادا کرنے اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے استفادہ کرنے کی اپیل کی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.