لاہور دھماکے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید


Lahore blast kills 10 amongst five policemen

لاہورمیں داتادربارکے باہرایک پولیس وین کے قریب دھماکے میں کم سے کم دس افراد شہید اور تیس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کومیوہسپتال منتقل کردیاگیاہے۔

دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا۔ ادھرپنجاب کے وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدارنے بھکر،سرگودھااورشیخوپورہ کادورہ منسوخ  کردیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو دھماکے میں زخمی ہونے والوں کوعلاج کی ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں داتا دربار کے باہر دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

 صدر عارف علوی نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس بزدلانہ واقعے میں گمراہ کن عناصر ملوث ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کو واقعے کے زخمیوں کو  علاج معالجے کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی لاہور میں دھماکے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔

اطلاعات و نشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لاہور میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درباروں کو نشانہ بنانے والے اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ معاون خصوصی نے شہدا کے خاندانوں کے ساتھ دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔

 انہوں نےکہا کہ قوم ، مسلح افواج ، رینجرز ،پولیس اور قانو  ن نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری قوم دہشت گردوں کے خلاف چوکس ہے۔

1 تبصرہ:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.