وفاقی کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دیدی


Federal Cabinet Meeting presided over by Pakistan Prime Minister Imran Khan

اطلاعات و نشریات کے بارے میں وزیراعظم کی خصوصی معاون ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلوں کے بارے میں منگل کی سہ پہر اسلام آباد میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دی ہے جو صدر کی منظوری کے بعد نافذالعمل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ قومی خزانے سے عالمی مقدمہ بازی پر اربوں روپے خرچ ہوئے جو 2016ء میں چھ ملین ڈالر سے بڑھ کر اس سال 45 ملین ڈالرہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران دس کروڑ ڈالر فیس کے طور پر ادا کئے گئے ہیں جبکہ عالمی قانونی فیس کی مد میں اس ماہ ایک کروڑ ڈالر ادا کئے جانے ہیں۔

اطلاعات کے بارے میں خصوصی معاون نے کہا کہ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ تمام وزارتوں کو قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے مکمل تیاری کرنی چاہئے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں مہنگائی کی روک تھام کیلئے صوبوں کے تعاون سے ایک طویل المدت پالیسی وضع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے مختلف الزامات میں بیرون ملک قید پاکستانیوں کی سہولت کے لئے اقدامات کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملائیشیا سے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کے لئے درکار رقم کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے کہا کہ کابینہ نے سستے بازار قائم کرنے اور رمضان المبارک کے دوران عام لوگوں کی سہولت کے لئے یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے میجر جنرل عمر احمد بخاری کو سندھ رینجرز کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے کی منظوری دی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.