وفاقی کابینہ کا قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والے عناصر کے ساتھ لچک نہ دکھانے کا فیصلہ


Federal Cabinet meeting in Islamabad

وفاقی کابینہ نے قومی وقار، تشخص اور سلامتی کو داؤ پر لگانے کی سازش کرنے والے مٹھی بھر عناصر کے ساتھ کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منگل کو اسلام آباد میں کابینہ نے اپنے اجلاس میں شمالی وزیرستان میں سیکورٹی چوکی پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

اجلاس میں مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس نفرت انگیر واقعہ میں شہید ایف سی کے اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اطلاعات ونشریات پر وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے بعد میں کابینہ اجلاس کے بارے میں صحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن اور استحکام کیلئے لاتعداد قربانیاں دی ہیں۔

تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر نے اپنے اقدامات کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن اور استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ معاون خصوصی نے یہ بھی یاد دلایا کہ وزیراعظم نے قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے 102 ارب روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قبائلی عوام کو سیاسی عمل کے مرکزی دھارے میں لے کر آئے ہیں اور ان کے اقدام سے ان علاقوں میں امن اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے جو ایک وقت نو گو ایریاز کہلاتے تھے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیکورٹی چوکی پر حملوں جیسے واقعات قبائلی اضلاع کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی ایک سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ان مٹھی بھر عسکریت پسند عناصر کے حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ وفاقی اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں اور پورا پاکستان قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ رہیں گے۔

اطلاعات کی معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم پہلے ہی صوبوں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد قبائلی اضلاع کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کیلئے دیں۔

کابینہ نے گزشتہ بیالیس اجلاسوں میں کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا ۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ کے 819 فیصلوں میں سے 584 فیصلوں پرعملدرآمد کیا گیا جبکہ باقی فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے نظام الاوقات مقرر کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی فلاح وبہبود کے بہترین مفاد میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے اجلاس کو بتایا کہ کابینہ کے فیصلوں پر پیشرفت یقینی بنانے کیلئے ایک نظام وضع کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے بارے میں خصوصی معاون نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی تفصیلات کابینہ کو پیش کی گئیں انہوں نے کہاکہ وفاقی بجٹ اگلے ماہ کی گیارہ تاریخ کو پیش کیا جائے گا جس میں قومی معیشت کے استحکام پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ بجٹ میں جاری کھاتوں کے خسارے اور مالیاتی خسارے میں کمی لانے ' اخراجات پر قابو پانے 'اقتصادی ترقی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرنے اور معاشرے کے محروم طبقے کے تحفظ کیلئے اقدامات شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت کی اقتصادی ٹیم کی جانب سے بنائے گئے پروگرام کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہو رہی ہے اور سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی کا رجحان ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے موثر برآمدی پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی صنعت کے فروغ کیلئے غیر فعال صنعتی یونٹس کی بحالی کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔

حج پالیسی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے حج کوٹہ میں پندرہ ہزار سات سو نوے عازمین کا اضافہ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عازمین جج کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم اور اس عمل میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

خصوصی معاون نے کہا کہ کابینہ نے ٹوبیکو انڈسٹری سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حاصل ہونے والے محاصل سے صحت کی بہتر سہولتوں کیلئے استعمال کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھی کینال میں بے ضابطگیوں کا معاملہ تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو دیا گیا ہے۔

اطلاعات و نشریات کی معاون خصوصی نے افسوس ظاہر کیاکہ ایک سیاسی جماعت نے یوم تکبیر کے موقع پر بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا جو آج منایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یوم تکبیر جیسے دنوں میں ملک کے دفاع' سلامتی اور مفاد کے لئے متحد ہونا چاہیے تاہم انہوں نے کہاکہ ان سیاسی بونوں نے اس موقع پر اپنے سیاسی مفادات کے لئے وزیراعظم عمران خان پر نکتہ چینی کے لئے استعمال کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں احتساب کے عمل کو متنازعہ بنانا چاہتی ہیں۔

پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں کے احتجاج کے بارے میں سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت میڈیا ہائوسز کو گزشتہ پانچ سال کے تمام واجبات ادا کر دے گی۔

1 تبصرہ:

  1. وفاقی کابینہ نے قومی وقار، تشخص اور سلامتی کو داؤ پر لگانے کی سازش کرنے والے مٹھی بھر عناصر کے ساتھ کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
    siasi discussion

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.