عمرالبشیرکے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ، سوڈان میں فوج نے ایمرجنسی نافذ کردی




 تیس سال تک ملک پر حکومت چلانے والے سوڈان کے صدرعمر البشیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا۔ ملک کے وزیر دفاع عود ابن عوف نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ سوڈان کی فوج نے ملک کے انتظامی امور سنبھال لیے ہیں ، ملک میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی، دو سال کے عرصے میں انتقال اقتدار کے عمل کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد عام انتخابات منعقد ہوں گے۔

وزیر دفاع عود ابن عوف نے کہا کہ سابق صدر کومحفوظ مقام پر رکھاجائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ملک کے آئین کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سوڈان کی سرحدیں اگلے اعلان کیے جانے تک بند ہیں۔

  سابق صدر کے نام عالمی عدالت برائے جرائم کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا عالمی وارنٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ وہ سوڈان کے علاقے دارفر میں جنگی جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر کہا گیا تھا کہ مسلح افواج صدر عمر البشیر کے تیس  سالہ دور حکومت کے خلاف کئی مہینوں سے جاری احتجاج اور ان کے خلاف مسلح بغاوت کی قیاس آرائیوں سے متعلق اہم اعلان کریں گی۔


 دارالحکومت خرطوم میں وزارت دفاع کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد کے حکومت مخالف مظاہرے کے بعد فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ شہر کی اہم شاہراؤں پر بھی فوج اور سکیورٹی ایجینسی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔انیس سو نواسی میں  ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے صدر عمر البشیر کے خلاف سوڈان میں گذشتہ کئی ماہ سے مظاہرے ہو رہے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.