سری لنکا میں دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 290 ہوگئی



اتوار کی صبح ہونے والے ان دھماکوں میں کولمبو سمیت تین شہروں میں تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک شدگان میں مقامی باشندوں کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

سب سے پہلے دھماکوں کی اطلاع اتوار کی صبح نو بجے کے قریب ملی جب کولمبو اور اس کے علاوہ دیگر دو شہروں، نیگمبو اور بٹّی کالؤا میں تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے۔اس کے علاوہ دارالحکومت کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو نشانہ بنایا گيا۔پولیس نے جب ان دھماکوں کے ذمہ داران کی تلاش شروع کی تو مزید دو دھماکوں کی اطلاع ملی۔ان میں سے ایک جنوبی کولمبو میں چڑیا گھر کے نزدیک ہوا جبکہ دوسرا دیماتاگوڈا نامی علاقے میں پولیس کے ایک چھاپے کے دوران ہوا جس میں تین پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق  ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو نے تک پہنچ گئی جبکہ پانچ سے لگ بھگ زخمی ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والوں میں بیشتر سری لنکن شہری تھے جن میں مسیحیوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو ایسٹر کی تقریبات میں شریک تھے۔

سری لنکن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ چھتیس غیرملکیوں کی لاشیں بھی کولمبو کے مردہ خانے میں ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔لاشوں کی شناخت کے لیے سری لنکا نے پاکستان سے تعاون مانگ لیا ہے۔ ہلاک ہونے والے غیرملکیوں میں کم از کم پانچ برطانوی شہری ہیں ، بھارت اور ڈنمارک کے تین، تین جبکہ پرتگال کا ایک شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔ترک خبر رساں ادارے نے دو ترک انجینیئرز کی ہلاکت کی خبر دی ہے جبکہ ہالینڈ کا ایک شہری بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔

پولیس کے مطابق ان حملوں کے بعد اب تک چوبیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن سری لنکن حکومت نے تاحال ان حملوں کے لیے کسی گروپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میں سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے کا کہنا تھا کہ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلیجنس رپورٹس پر کیوں کارروائی نہیں کی گئی۔ سری لنکا کے وزیرِ دفاع روان وجےوردھنے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ کا ہاتھ لگتا ہے۔ ہم‘‘ہر اس انتہاپسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہیں’’۔

1 تبصرہ:

  1. اتوار کی صبح ہونے والے ان دھماکوں میں کولمبو سمیت تین شہروں میں تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک شدگان میں مقامی باشندوں کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
    to the point

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.