پاک چین کے آزادانہ تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ، ریلوے ایم ایل ون معاہدے پردستخط


Pak China ink railway project

وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں دوسرے ایک خطہ ایک شاہراہ فورم کے اختتام پر چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ سے ملاقات کی۔

اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم کے ہمراہ وزرا اوراعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔دونوں رہنمائوں نے پاکستان اورچین کی سدا بہار دوستی کو آگے بڑھانے کا اعادہ کیا اوردوطرفہ روابط کے تمام پہلوئوں پرتبادلہ خیال کیا ۔وزیراعظم نے  ایک خطہ ایک شاہراہ فورم کے کامیاب انعقاد پرچینی قیادت کومبارک باد پیش کی۔

ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کو اجاگرکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ یہ رابطوں اور مشترکہ خوشحالی کے تناظر میں پوری دنیا کیلئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔فریقین نے سی پیک کے تناظر میں دوطرفہ تعاون اور اقتصادی روابط کومزید مستحکم کرنے کے امکانات پرتبادلہ خیال کیا ۔

وزیراعظم نے پاکستانی معیشت کیلئے سی پیک کی اہمیت پرروشنی ڈالی اور اس بات پر اطمینان ظاہر کیاکہ اسے حکومت کی ترجیحات کے مطابق صنعتی ، سماجی ترقی ، زراعت اور دیگر عوامی منصوبوں کی جانب توسیع دی جارہی ہے ۔انہوں نے امیدظاہر کی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں چین کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں جہاں صنعتی ترقی ہوگی وہاں برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا ۔

چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ نے سی پیک منصوبوں کی مثبت رفتار پر اطمینان ظاہر کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن کوششوں اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام سمیت علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر دستخطوں کی تقریب میں پاکستان اور چین کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے۔اس موقع پر مفاہمت کی جن یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ان میں چین پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ' مرکزی ریلوے لائن ون کی اپ گریڈیشن اور ابتدائی ڈیزائن کا اعلامیہ' سی پیک کے تحت حویلیاں ڈرائی پورٹ اور چین کے ساتھ میرین سائنسز کے شعبے میں تعاون شامل ہیں۔

پاکستان اور چین نے اتوار کے روز بیجنگ میں ریلوے سے متعلق ایم ایل ون معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت پشاور سے کراچی تک دو رویہ ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد اورپاکستان میں چین کے سفیر یاؤجنگ نے مرکزی ریلوے لائن ون کے پہلے مرحلے کا اعلامیے پردستخط کیئے۔

وزیراعظم عمران خان اور چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ بھی دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے۔معاہدے کے تحت پاکستان ریلوے اور چین کی نیشنل ریلوے ایڈمنسٹریشن اس منصوبے کا تعمیراتی کام شروع کرے گی۔مرکزی ریلوے لائن ون منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل ہوگا جس کے تحت پشاور سے کراچی تک 1872 کلومیٹر طویل پٹڑی کوجدید خطوط پر دو رویہ کیاجائے گا ۔پٹڑی کے ارد گرد باڑھ لگائی جائے گی پل بنائے جائیں گے اور زیرزمین گزرگاہیں تعمیر ہوں گی ۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ریل گاڑیوں کی اوسط رفتار 120 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی جو اس وقت 60 کلومیٹری فی گھنٹہ ہے ۔راولپنڈی سے کراچی تک مسافت 22 گھنٹے سے کم ہوکر 10 گھنٹے رہ جائے گی۔حالیہ معاہدہ پہلے مرحلے کیلئے ہے جبکہ منصوبے کی کل لاگت8 ارب 20 کروڑ ڈالر ہے جو تین مرحلوں میں مکمل ہوگا ۔ایم ایل ون منصوبے سے روزگار کے 20 ہزار براہ راست جکبہ ڈیڑھ لاکھ بالواسط مواقع پیدا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.