پرعزم کپتان کا نیا پاکستان



عمران خان کی سیاسی جدوجہد انیس سو چھیانوے سے دوہزار اٹھارہ تک محیط ہے۔ بائیس سالہ شبانہ روز محنت  کےبعد وہ وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پا س ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے بہترین ٹیم ہے۔ کپتان کے قابل اعتماد اوپنر اسدعمر تو ہٹ وکٹ ہوگئے۔ دیگر کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان کا ٹریک ریکارڈ کیا ہے؟

کپتان کے نئے اوپنر عبدالحفیظ شیخ صاحب  سابق صدرپرویزمشرف کی فوجی حکومت میں سندھ کے وزیرخزانہ تھے پھر ق لیگ کی کابینہ میں وفاقی وزیرنجکاری رہے، پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں وہ آخری تین سال وفاقی وزیرخزانہ تھے۔  مفتاح اسماعیل کو مشیر خزانہ بنانے پر پی ٹی آئی نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ منتخب ارکان کی موجودگی میں غیرمنتخب شخص کا بجٹ پیش کرنا شرمناک ہے، اب پی ٹی آئی کی حکومت میں غیرمنتخب شخص بجٹ پیش کرے گا تو یہ آرٹ کہلائے گا۔ اس کے علاوہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں معیشت تباہ ہوگئی ہے لیکن خان صاحب اب دس کے بجائے سات سال کہیں گے کیوں کہ  تین سال تو حفیظ شیخ معیشت کے سیاہ و سفید کے مالک تھے،  جنہیں اب عمران خان نے بڑا معیشت دان قرار دیا ہے۔  کیا عمران خان کی ہونہار ٹیم میں اسد عمر کا کوئی بیک اپ نہیں تھا؟

صرف حفیظ شیخ جیالےیا مشرف کی ٹیم کا حصہ ہوتے تو ہم صبر کرلیتے لیکن  کابینہ کےچوبیس وفاقی وزراء میں صرف  چار وزیر شیریں مزاری، مراد سعید، علی حیدرزیدی اور فیصل واؤڈا نے سیاست کا آغاز پی ٹی آئی سے کیا ، کپتان کی اپنی منتخب کردہ ٹیم کے دیگر چودہ کھلاڑی یا تو سابق جیالے ہیں یا مشرف کے حواری۔ چھ وزراء کا تعلق  اتحادی جماعتوں سے ہے، جو کبھی زرداری تو کبھی مشرف کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔
  
شاہ محمود قریشی( وزیرخارجہ): شاہ  جی انیس سو اٹھاسی سےتیرانوے تک  نوازشریف  کے ساتھ تھے، دو بار پنجاب  کابینہ میں شامل رہے۔انیس سوتیرانوے میں جیالے بن گئے ،دوہزار گیارہ میں  پیپلز پارٹی سے بیس سالہ رفاقت ختم کی، اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیا اور پھر  پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

2۔ پرویزخٹک(وزیردفاع): وزیردفاع پرویزخٹک  پیپلزپارٹی چھوڑ کر آفتاب شیرپاؤ کے ساتھ قومی وطن پارٹی میں گئے اور پھر دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

3۔اعجاز شاہ (وزیرداخلہ): وزیرداخلہ اعجاز شاہ  پرویزمشرف کےقابل اعتماد  ساتھی تھے۔ دوہزار دو کے الیکشن سے پہلے پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ ، ق لیگ اور پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنانے والوں میں شامل تھے۔ دوہزار اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیت گئے۔

4۔فوادچوہدری: پہلے اطلاعات و نشریات  اب سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں،پرویز مشرف کے ترجمان تھے،دوہزار بارہ میں پی پی میں شامل ہوئے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی رہے۔ دوہزار تیرہ  میں ق لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ہار گئے، دوہزار سولہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہونےکےبعد عمران خان کے رفقا میں شامل ہوگئے۔   

5۔ شفقت محمود(وزیرتعلیم): بے نظیر بھٹو کے پولیٹیکل سیکرٹری  رہے،انیس سو چورانے میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر بنے۔ انیس سو ننانوے اور دوہزار میں پرویزمشرف کی ٹیم میں وزیراطلاعات پنجاب رہے۔ دوہزار گیارہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

6۔غلام سرور خان: پہلے پیٹرولیم اب ای ایویشن کا قلمدان ملا ہے، پیپلزپارٹی کا  یہ جیالا دہزار چار میں مشرف کو پیارا ہوگیا اور ق لیگ کی کابینہ کا حصہ بن گیا۔ دوہزار تیرہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچا۔

7۔اعظم خان سواتی(پارلیمانی امور):  مولانا فضل الرحمان کےزیرسایہ سیاست کا آغاز کیا،  پیپلزپارٹی کے آخری دور حکومت میں وفاقی وزیر تھے۔

8۔خسرو بختیار(منصوبہ بندی  واصلاحات):انیس سو ستانوے میں ن لیگ، دوہزار میں ق لیگ، دوہزار تیرہ میں پھر ن لیگ میں شامل ہوئے۔ دوہزار اٹھارہ میں جہانگیرترین کا بزنس پارٹنربننے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

9۔ علی محمد مہر(نارکوٹکس کنٹرول): مشرف کی زیرسایہ دوہزار دو سے دوہزار چھ تک وزیراعلیٰ سندھ رہے، دوہزار تیرہ میں پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ دوہزار اٹھارہ میں آزاد حیثیت سے کامیابی کےبعد پی ٹی آئی کی صف میں آگئے۔

10۔ صاحبزادہ محبوب سلطان( نیشنل فوڈ اینڈ ریسرچ):دوہزار دو اور دوہزار آٹھ میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ دوہزار تیرہ میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ دوہزار اٹھارہ میں پی ٹی آئی  کی لانڈری میں دھل گئے۔ 

11۔عمرایوب خان(توانائی): دوہزار دو میں ق لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا، دوہزار بارہ میں ن لیگ میں شامل ہوئے اور  دوہزار اٹھارہ  میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچے۔

12۔ محمد میاں سومرو( وزیرنجکاری ): مشرف دور میں چیئرمین سینیٹ رہے، دوہزار اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑا اور وزیر بن گئے۔

13۔نورالحق قادری(وزیر مذہبی امور ): مشرف دور میں ق لیگ کی کابینہ میں وزیر رہے،  دوہزار آٹھ سے دس  تک  گیلانی کی کابینہ میں تھے، دوہزار سترہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

اتحادی جماعتوں کے وزراء:

1۔زبیدہ جلال (دفاعی پیداوار ):انیس سو  اٹھاسی میں مسلم لیگ ن سے سیاست کا آغاز کیا، پھر پس منظر میں چلی گئیں، انیس سو ننانوے میں پرویز مشرف کی کور ٹیم کی اہم رکن تھیں۔ دوہزار دو سے دوہزار سات تک ق لیگ کی کابینہ میں وزیرتعلیم رہیں۔دوہزار تیرہ میں نوازشریف پر اظہار اعتماد کیا۔ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بی اے پی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچیں۔


2۔ طارق بشیر چیمہ(ہاوسنگ اینڈ ورکس):انیس سو اسی میں جیالے کی حیثیت سے سیاست کا آغاز کیا، مبینہ طور پر الذولفقار سے تعلق تھا،ضیا ء کےدور میں جیل میں تھے، پاکستانی طیارہ  اغوا کرنے والے ہائی جیکر نے ان کو رہا کرایا وہ افغانستان گئے، انیس سو نواسی میں پی پی دور حکومت میں ان کے خلاف کیسز واپس لیے گئے تو وہ واپس آگئے۔ انیس سو تیرانوے سے چھیانوے تک صوبائی وزیر رہے۔ دوہزار تیرہ اور پھر دوہزار اٹھارہ میں وہ ق لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔


3۔ فہمیدہ مرزا (بین الصوبائی امور): انیس سو ستانوے سے پیپلزپارٹی میں تھیں،دوہزار اٹھارہ میں جی ڈی اے کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گئیں۔

4۔ شیخ رشید احمد( وزیر ریلوے): نوازشریف کے جان نثار  نےدوہزار دو میں ق لیگ جوائن کی بعد میں اپنی پارٹی بنالی۔ اب عمران خان کے دست راست ہیں۔

  5۔ فروغ نسیم (وزیرقانون):پرویزمشرف کے وکیل رہے ہیں۔ تعلق ایم کیو ایم سے ہے، جس کو عمران خان فاشسٹ تنظیم کہتے تھے۔

6۔خالد مقبول  صدیقی(انفارمیشن ٹیکنالوجی): وزیر تو آئی ٹی کے ہیں لیکن  کمپیوٹر آن کرنا بھی نہیں جانتے، ان کا تعلق بھی اس جماعت سے ہے جس کے کارندوں نے کراچی کی دیواریں  عمران خان کے خلاف ناقابل بیان الفاظ سے رنگین کی تھیں۔

وزیراعظم کے معاونین خصوصی پرایک نظر:

 1۔فردوس عاشق اعوان:اطلاعات و نشریات  پر وزیراعظم کی  معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان دوہزار آٹھ میں ق لیگ چھوڑکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئی، دوہزار سترہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئیں۔

2۔یار محمد رند: دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے ق لیگ سے ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں آئے۔

3۔ندیم افضل چن: وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان  اورپارلیمانی رابطوں پر معاون خصوصی ندیم افضل چن دوہزار اٹھارہ میں پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

4۔میاں اسلم امین:پرویزمشرف دور میں وزیر ماحولیات تھے۔ کپتان کےدیگر معاونین میں نعیم الحق اور عثمان ڈار کو ہم پی ٹی آئی کے جینوئن کارکن کہہ سکتے ہیں۔

اب ایک نظر وزراء مملکت پر:

1۔شہریار آفریدی: سول سروس کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد سیاست میں آئے۔ دوہزار دو میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ دوہزار تیرہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔

2۔ علی محمد خان:  دوہزار تیرہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچے۔

۔ زرتاج گل وزیر:  دوہزار تیرہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ناکام رہیں دوہزار اٹھارہ میں اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

4۔ حماد اظہر: ق لیگ کے بانی صدر میاں اظہر کےصاحبزادے  ،دوہزار گیارہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

5۔ صابر علی :دوہزار اٹھارہ میں  مظفرگڑھ سے الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔

نو مشیران اور معاونین خصوصی میں صرف تین ایسے ہیں جو ماضی میں کسی اور جماعت میں نہیں رہے۔ یوں کپتان کی تینتیس رکنی ٹیم میں صرف سات کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے سیاست کا آغاز پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کیا  لیکن انہیں بھی غیر اہم وزارتیں ملیں یا وزیر مملکت بنائے گئے۔ کیا  کپتان نے بائیس سال میں یہ ٹیم تیار کی تھی؟ کیا وہ مشرف اور جیالوں کی مدد سے تبدیلی لاکر  نیا پاکستان بنائیں گے؟ سوال تو اٹھے گا۔

خیراللہ عزیز کے دیگربلاگز:

2 تبصرے:

  1. بہترین پوسٹ مارٹم۔شرم ان کو مگر نہیں آتی

    جواب دیںحذف کریں
  2. عمران خان کی سیاسی جدوجہد انیس سو چھیانوے سے دوہزار اٹھارہ تک محیط ہے۔ بائیس سالہ شبانہ روز محنت کےبعد وہ وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پا س ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے بہترین ٹیم ہے۔ کپتان کے قابل اعتماد اوپنر اسدعمر تو ہٹ وکٹ ہوگئے۔ دیگر کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان کا ٹریک ریکارڈ کیا ہے؟

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.