عزم و ہمت کا پیکر




یہ غالباً فروری کا  وسط تھا ، کراچی کی خوشگوار شام تھی لیکن آج اس کا چہرہ مرجھایاہوا تھا، آنکھوں کی چمک ماند تھی، اس کی گفتگو میں طنز و مزاح کا عنصر محسوس نہ ہوا، اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا،  ہمیشہ محفل کو کشت زعفران بنانے والا یہ نوجوان آج بکھرا بکھرا لگ رہا تھا،  ہم نے وجہ پوچھی تو ٹوٹے لہجے میں بولا  ’’یہ کیا ہورہا ہے، ہم کس طرف جارہے ہیں، تھوڑی  سے امید پیدا  ہوئی تھی کہ امن قائم ہوگیا ہے اب ہمارے بچے پڑھیں گے، نوجوان قومی دھارے میں شامل کر علاقے میں خوشحالی لائیں گے لیکن یہ  توحالات ایک  بار  پھر خراب ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔

  وہ قبائلی علاقوں کے ناراض نوجوانوں اور ریاست کے درمیان  چپقلش سے حد درجہ پریشان تھا، اسے قبائل (سابق فاٹا) کا  مستقبل بھیانک نظر آرہا تھا، یہ عام نوجوان تھا نہ اس کی سوچ عام نوجوانوں جیسی ،   جسے اپنے مستقبل یا سہانے سپنوں کی فکر تھی، یہ عابد آفریدی تھا،  جو وطن  کے بارے میں سوچ  رہا  تھا ، جو تباہ حال قبائلی علاقوں کے بارے میں بات کررہا تھا، جو قبائلی بچوں کے تعلیم کیلئے فکر مند تھا۔ اس دن عابد  خلاف معمول بہت سنجیدہ نظر ا ٓرہاتھا۔ کہنے  لگا  یہ جو ناراض نوجوان ہیں ان کے بیشتر  مطالبات درست ہیں، یہ آئین کے اندر  رہ کر حقوق چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ  تشدد کو  ہوا دینا چاہتے ہیں اور مجھے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے پھر ہمارے علاقوں کو تختہ مشق بنادے۔

عابد کی تشویش بجا تھی، دوستوں نے پوچھا  اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ تو کہنے لگا ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں بس مجھے سپورٹ چاہیئے، ہم ایک مہم چلاسکتے ہیں، ہم ریاستی اداروں تک پرامن لوگوں کی آواز پہنچائیں گے، ہم مزید تشدد نہیں سہہ سکتے، ہمیں آگاہی مہم چلانا  ہوگی کہ موجودہ  ڈیڈلاک کی سی صورتحال برقرار رہی تو حالات  بگڑسکتے ہیں اور ہم ایک بار  پھر جنگ کا ایندھن بنیں گے۔  یہ عابد آفریدی کے خیالات تھے ، ہم نے انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا، ہمارا خیال تھا کہ قدم اٹھانا چاہیئے نتیجہ جو بھی ہو، کم ازکم ہم اپنے ضمیر کو تو  مطمئن کرسکیں گے کہ ہم نے کوشش کی تھی، امن کے قیام کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کیا تھا۔

  ہماری محفل برخاست ہوئی اور عابد آفریدی دن رات کام میں لگ  گیا، اپنے جیسے نوجوانوں کو  ڈھونڈنے  نکلا،  وہ غیر معروف نہیں تھا ، سوشل میڈیا پر اس کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔اس نے مشاورت سے‘‘جرگہ پاکستان’’ کے نام  سے پلیٹ فارم تشکیل  دیا،  اسے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں پرعزم جان نثار ساتھی مل گئے۔ ‘‘جنگ  نہیں امن’’اس کے پیغام کو  ملک بھر سے پذیرائی ملی ۔ ایک طرف اگرچہ مثبت ردعمل ملا تو دوسری طرف  اس پر الزامات بھی لگے، کسی نے اسے ایجنسیوں کا آلہ کار کہا تو کسی نے وطن دشمن قوم پرست اور غیرملکی ایجنٹ کہا  جبکہ بعض نے تو عابد کی سوچ کو دیوانے کا خواب قرار دیا لیکن اس کا حوصلہ چٹانوں جیسا تھا،  گھبرایا نہیں، اس کے قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔

عابد کی مہم جاری  تھی، اس دوران ایک افسوسناک واقعہ  بھی پیش آیا، اس کے دو پھول جیسے بچے گھر میں ابلتے ہوئے پانی سے جھلس  گئے،  ایک کی طبیعت بہت خراب تھی، لیکن سلام ہے وطن کے اس سپوت کو جس نے اس موقع  پر بھی ہمت نہیں ہاری،  اسپتالوں کے چکر پہ چکر اور گھر کی ذمہ داری الگ مگر اس موقع پر بھی وہ اپنے کاز کو نہیں بھولا۔ اس نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی اب اس کا  نتیجہ دیکھنا چاہتا تھا اور اس کے لیے اس نے جرگہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے پر امن پاکستان کنونشن کی تاریخ بھی دے ڈالی۔ ابھی ہماری مہم کی ابتدا تھی ایسے میں کنونشن کا اعلان  بے وقوفی کی  حد تک  بولڈ فیصلہ تھا،دن بہت کم تھے، فنڈنگ کا بھی مسئلہ تھا، اسلام آبا دجیسے شہر میں کنونشن کا انعقاد آسان کام نہیں تھا۔  ہم نے مخالفت کی لیکن وہ نہیں مانا کہنے لگا، ایک دو بندے بھی آجائے تو  یہ ہماری کامیابی ہوگی۔

 اس کنونشن کے لیے تمام دوستوں نے بہت محنت کی، میں نام اس لیے نہیں لینا چاہتا کہ شائد کوئی رہ نہ جائے، اسلام آباد اور  پشاور کے ساتھیوں کو خراج تحسین جنہوں نے کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کیا۔  فنڈنگ کا مسئلہ کس طرح حل ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے، دوستوں نے بساط کے مطابق حصہ ڈالا  لیکن رقم پھر بھی کم تھی،  ایسے میں عابد نے قرض لینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ (بعض لوگ تو یہ الزام بھی لگارہے تھے کہ عیاشیوں کے لیے پیسے اکٹھے کررہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ کوئی فنڈنگ کررہا  ہے لیکن یہ ہمیں پتہ ہے کہ عابد نے اخراجات کیلئے رقم کا انتظام کس طرح کیا)۔

 سات اپریل کا  دن آپہنچا،  چاروں صوبوں سے اہم لوگ کنونشن میں شریک ہوئے، اس سے بڑھ کر کامیابی کیا ہوگی کہ اس کنونشن میں ریاست کے ذمہ داران بھی موجود تھے اور ناراض نوجوانوں کے نمائندے بھی ۔ طلبا کا مستقبل سنوارنے والے بھی آئے اور اہل قلم نے بھی شرکت کی۔  سرکار کی طرف سے جرگہ پاکستان کی کاوشوں  کا خیرمقدم کیا گیا، خیبرپختونخوا کے گورنر ہاؤس کے دروازے مظلوموں کے لیے کھل گئے جہاں گرینڈ جرگہ ہوگا، ناراض لوگوں کی بات سنی جائے گی، شکوے شکایتیں ہوں گی، مسائل کے حل ڈھونڈنے کے لیے نئی راستے نکالے جائیں گے، عابد نے جو خواب دیکھا وہ انشاءاللہ شرمندہ تعبیر ہوگا۔

 جرگہ پاکستان کی جدوجہد صرف قبائلی پختونوں کے لیے نہیں، بلوچستان کے مظلوم عوام  کی آواز بھی ایوانوں  تک جائے گی، سندھ میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے والوں  کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا جبکہ جنوبی پنجاب کے محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی جائے گی۔   ابھی  تو شروعات ہیں ، رکاوٹیں بھی آئیں گی، مشکلات بھی ، الزامات بھی لگیں گے ، اسکینڈل  بھی بنیں گے، لیکن امید ہے کہ عابد ہمت نہیں ہارے گا کیونکہ میں نے انہیں مشکلات سے نبرد آزما ہوتے دیکھا ہے، بس  اس نوجوان کو ایک نصیحت ہے کہ اپنے قدم زمین پر رکھنا ، شہرت بہت بری چیز ہے یہ بڑے بڑے پارساؤں کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے،  کسی کے ہاتھوں کا  کھلونا مت بننا ، مخلص ساتھیوں  کی قدر کرنا یہ قسمت والوں کو ملتے ہیں،اللہ تمھارا حامی و ناصر ہو۔




خیراللہ عزیز سینئر صحافی ہیں۔ ایک پشتو زبان کے ٹی وی چینل لانچ کرچکے ہیں۔ اس وقت وہ ایک اردو نیوز چینل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحاریر دیگر ویب سائٹس اور جرائد میں بھی شایع ہوتی ہیں۔خیراللہ عزیز سے ٹوئیٹر  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

1 تبصرہ:

  1. یہ غالباً فروری کا وسط تھا ، کراچی کی خوشگوار شام تھی لیکن آج اس کا چہرہ مرجھایاہوا تھا، آنکھوں کی چمک ماند تھی، اس کی گفتگو میں طنز و مزاح کا عنصر محسوس نہ ہوا، اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا، ہمیشہ محفل کو کشت زعفران بنانے والا یہ نوجوان آج بکھرا بکھرا لگ رہا تھا، ہم نے وجہ پوچھی تو ٹوٹے لہجے میں بولا ’’یہ کیا ہورہا ہے، ہم کس طرف جارہے ہیں، تھوڑی سے امید پیدا ہوئی تھی کہ امن قائم ہوگیا ہے اب ہمارے بچے پڑھیں گے، نوجوان قومی دھارے میں شامل کر علاقے میں خوشحالی لائیں گے لیکن یہ توحالات ایک بار پھر خراب ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔
    karachi

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.