سائنسدانوں کا بلیک ہول کی پہلی تصویر حاصل کرنے کا دعویٰ



 ماہرین فلکیات نے بلیک ہول کی پہلی مرتبہ تصویر لینے کا دعویٰ کیا جو ایک دور دراز کہکشاں میں واقع ہے۔ بلیک ہول کی لمبائی چار سو ارب کلومیٹر ہے اوریہ زمین کے مجموعی حجم سے تیس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ بلیک ہول دنیا سے تقریباً پچاس کروڑ کھرب کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور اس کی تصویر دنیا کے مختلف حصوں میں نصب آٹھ دوربینوں سےلی گئی ہے۔

نیدرلینڈ یونیورسٹی رادباونڈ کے پروفیسر ہاینو فیلک کا کہنا ہے کہ ایم ستاسی نامی یہ کہکشاں ہمارے پورے نظام شمسی سے بڑا ہے۔ اس کا حجم سورج سے چھ اعشاریہ پانچ ارب گنا بڑا ہے اور سائنسدانوں کے خیال میں اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز میں سب سے زیادہ وزنی ہے۔

اکثرکہکشاؤں کے مرکز میں ایک بلیک ہول ہوتا ہے،تاہم مختلف بلیک ہولز کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قریبی گیس، خلائی دھول اور ستاروں کو ہڑپ کرتے ہیں، جب کہ بعض اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج کرتے ہیں کہ آس پاس ستاروں کی تشکیل کا عمل ہی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.