جرگہ پاکستان مسائل کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے کوشاں



قبائلی علاقوں میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ چاہتے ہیں، دہائیوں تک جنگ سے متاثرہ قبائلی علاقے مزید بدامنی، تباہی اور خونریزی کے متحمل نہیں ہوسکتے، ارباب اقتدار مسائل کے حل کےلیے آگے بڑھیں اور محرمیوں کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار ’’جرگہ پاکستان‘‘ کے کنوینر عابدآفریدی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔


انہوں نے کہا کہ قبائلیوں نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیں، جانی گنوائیں، گھر بار چھوڑا  لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود قبائلی علاقوں کے لوگوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہے، قبائلی نوجوان سمجھتے ہیں کہ ارباب اقتدار نے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، یہ نوجوان تعلیم کے بہتر مواقع چاہتے ہیں، صحت کی سہولتیں چاہتے ہیں، کھیل میں ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں، اگر حکام نے ان کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہ دی تو ان علاقوں میں ایک بار پھر بدامنی کی لہر اٹھنے کا خدشہ ہے۔

 عابدآفریدی نے کہا کہ کبھی مذہب تو کبھی قوم پرستی کے نام پر پختونوں کی نسلوں کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا اب انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ حقوق کے نام پر بندوق اٹھائیں لیکن ہم یہ نہیں چاہتے اور نہ ایسا ہونے دیں گے، ہم نہیں چاہتے کہ ایک بار پھر یہ علاقے بدامنی کی لپیٹ میں آجائیں اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں عابد آفریدی نے کہا کہ حکومت اگر قبائلی علاقوں کے ناراض لوگوں سے مذاکرات کرتی ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومتی جرگہ کامیاب ہو اور کشیدگی کا جلد سے جلد خاتمہ ہو  لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمارا کام ختم ہوجائے گا، جرگہ پاکستان ایک عام جرگہ نہیں جو دو فریقوں کے درمیان مصالحت کے لے وجود میں آیا ہے بلکہ ہمارا مقصد پاکستان بھر میں مظلوموں کی آواز اٹھانا اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اور ہر سطح پر ان کا مقدمہ لڑکان ہے، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر جرگہ پاکستان خیبرپختونخوا کے کوارڈینیر حکیم عبدالباسط، معاون ڈاکٹر ریاض، حافظ عابد اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس میں جرگہ پاکستان کے اغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ عابد آفریدی نے سات اپریل کو اسلام آباد میں منعقدہ کنونشن کو بڑی کامیابی قرار دیا جس میں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، ایم این اے شاہد خٹک اور پی ٹی ایم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ حکومت اور پی ٹی ایم کے نمائندے ایک پلیٹ فارم پر شریک ہوئے۔


1 تبصرہ:

  1. عابد صاحب اللہ کریم نیک مقصد میں آپکی مدد و معاونت فرماے ۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.