کراچی کنگز کی ناقابل یقین جیت۔ کوئٹہ کو شکست، لاہور قلندرز آؤٹ

 


اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا۔ ایک سیٹ بھی خالی نہیں۔ شائقین پرجوش۔ ہوم گراؤنڈ پر ہوم کراؤڈ کے سامنے ہوم ٹیم جیت جائے اس سے بڑی خوشی کیا ہوگی۔ جی ہاں کراچی کنگز نے اتوار کی رات کو غیرمتوقع جیت سے  کرکٹ کے متوالوں کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔

آخری اوور۔ چھ گیندیں اور صرف پانچ رنز۔ گیند ایسے بولر کے ہاتھ میں جس نے اپنے پچھلے اوور میں بائیس رنز دیے جبکہ کریز پر دو جارح مزاج بلے باز ۔ ان میں بھی ایک ننانوے رنز پر۔ بیٹنگ ٹریک، فاسٹ آؤٹ فیلڈ ، چھوٹی باؤنڈریز،   ایسے میں میچ جیتنا دیوانے کے خواب سے کم نہیں لیکن عثمان شنواری نے کر دکھایا۔

عثمان کی پہلی گیند پر انور علی نے ایک رن لیا اور اب سامنا کررہے تھے احمد شہزاد جنہیں سنچری مکمل کرنے کے لیے ایک رن درکار تھا۔  عثمان نے گیند پھینکی اور انیس اوور تک کریز پرموجود احمد شہزاد نے اندھادھند بلا گھمایا، کولن انگرم نے شاندار کیچ لیا۔  احمد شہزاد سنچری نہ کرسکے ۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چار گیندوں پر چار رنز درکار تھے، میچ اب بھی گلیڈی ایٹرز کے ہاتھ میں تھا ، سامنا کررہے تھے انور علی جو اپنی بیٹنگ سے کئی بار تن تنہا میچ جتواچکے ہیں لیکن ان کی قسمت خراب تھی اور قسمت کی دیوی شنواری پر مہربان تھی ، انور علی نے کیپر کو کیچ تھمادیا۔

تین گیندوں پر  چار رنز بنانا بالکل بھی مشکل نہیں اگر کریز پر محمد نواز جیسے جارح مزاج بلے باز موجود ہو۔  نواز  نے ایک رن لیا اور موقع دیا اپنے کپتان کو جو ہمیشہ قابل بھروسہ بلے باز ثابت ہوئے ہیں ، سرفراز کو دو میں سے کسی ایک گیند کو باؤنڈری کے پار لگانا تھا وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر سرخرو ہوجاتی لیکن یہ شنواری کا دن تھا، سرفراز کلین بولڈ ہوگئے، آخری گیند پر چار رنز چاہیئے تھے مگر سہیل تنویر ،،،شنواری کے یارکر پر ایک لیگ بائی ہی لے سکے اور اسٹیڈیم میں پرجوش شائقین جھوم اٹھے، کراچی کنگز پہلی بار ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہی تھی، اپنے چاہنے والوں کو نہ صرف جیت کا تحفہ دیا بلکہ پلے آف مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرلیا۔

کراچی کنگز کی جیت میں نوجوان لیفٹ آرم اسپنر عمر خان کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جائنٹ کلر عمرخان نے ٹاپ کلاس بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کی روایت برقرار کھی اور شین واٹسن،روسو اور عمراکمل کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔

کراچی کنگز نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک سو نوے رنز بنائے تھے، بابر اعظم نے چھپن رنز بنائے، جبکہ افتخار احمد نے صرف اٹھارہ گیندوں پر چوالیس رنز کی برق رفتار اننگ کھیلی۔

کراچی کنگز کی اس جیت سے لاہور قلندرز کے پرستاروں کے دل ٹوٹ گئے، ہردلعزیز رانا فواد  کی ٹیم آخری میچ بے دلی سے کھیلے گی کیونکہ لاہور قلندرز ایونٹ سے باہر ہوگئی۔ کراچی کنگز پیر کو پشاور زلمی کو ہراکر دوسری پوزیشن حاصل کرسکتی ہے ۔  

1 تبصرہ:

  1. اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا۔ ایک سیٹ بھی خالی نہیں۔ شائقین پرجوش۔ ہوم گراؤنڈ پر ہوم کراؤڈ کے سامنے ہوم ٹیم جیت جائے اس سے بڑی خوشی کیا ہوگی۔ جی ہاں کراچی کنگز نے اتوار کی رات کو غیرمتوقع جیت سے کرکٹ کے متوالوں کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔
    karachi kings

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.