وزیر خارجہ کی حزب اختلاف کو خارجہ پالیسی پر تجاویز دینے کی پیشکش

Pakistan's Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi asks opposition to come up with suggestions on foreign policy

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کو خارجہ پالیسی کے مسائل پر حکومت کے ساتھ مل بیٹھنے کی پیشکش کی ہے۔

بدھ کی شام قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے پاکستان کو خارجہ امور کے محاذ پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے کسی بھی تجویز کا خیر مقدم کرے گی۔

وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو زرداری' قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور دیگر پارلیمانی رہنماؤں کو دفتر خارجہ آنے کی دعوت دی اور کہاکہ حکومت خارجہ تعلقات پر ان کی رائے لے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت قومی لائحہ عمل پر مکمل عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

ملک کی اقتصادی صورتحال کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معیشت میں ڈھانچہ جاتی خرابیاں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جو ہمیں گزشتہ حکومت سے ورثے میں ملی ہیں۔انہوں نے حزب اختلاف پر زور دیا کہ وہ ملکی معیشت میں بہتری سےمتعلق ٹھوس تجاویز کے ساتھ آگے آئے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ابوظبی میں اسلامی تعاون تنظیم میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی طرف سے منظور کی گئی متفقہ قرارداد کی روشنی میں کیا گیا۔

بھارتی پائلٹ کی رہائی پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ فیصلہ کشیدگی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے بہترین مفاد میں کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے سلسلہ میں پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کو بین الاقوامی برادری نے بڑے پیمانے پر سراہا ہے۔


پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آنے سے قبل کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بنیادی ڈھانچے زراعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں کئی منصوبے مکمل کیے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کرسکی۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ کشمیر کے لوگوں کو وعدے کے مطابق استصواب رائے کے ذریعہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا موقع دیاجائے تاکہ پلوامہ جیسے واقعات سے بچا جاس کے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت پیلٹ گن اور خواتین کی بے حرمتی کو ظالمانہ ہتھیاروں کے طورپر استعمال کرکے بے گناہ کشمیریوں پرمظالم ڈھا رہا ہے ۔

بلاول نے کہا کہ پلوامہ حملہ کسی دوسرے ملک کے غیرریاستی عناصر نے نہیں ایک کشمیری نوجوان نے غم وغصہ کے اظہار کیلئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کانوٹس لیناچاہیے ۔

بلاول بھٹو زرداری نے مادر وطن کا دفاع کرنے اور ملک کے خلاف بھارتی جارحیت کو ناکام بنانے پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا ۔انہوں نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد پر بھی زوردیا۔

1 تبصرہ:

  1. بدھ کی شام قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے پاکستان کو خارجہ امور کے محاذ پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے کسی بھی تجویز کا خیر مقدم کرے گی۔
    Din News

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.