وقت اور جگہ کا انتخاب کرکے بھارت کو جواب دیا جائے گا، پاکستان


قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور پاکستان وقت اور جگہ کا تعین کر کے اس کا جواب دے گا۔ بھارت کی دراندازی کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینئر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس بھارتی دراندازی کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا، اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی طیاروں کی دراندازی کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی جب عسکری قیادت نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں سے آگاہ کیا، اجلاس کو پاک فضائیہ کے طیاروں کے فوری رسپانس کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں بالاکوٹ کےنزدیک مبینہ دہشت گردکیمپ کوٹارگٹ کرنے اور ہلاکتوں کا بھارتی دعوٰی مسترد کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک بارپھربھارت نےخودساختہ جھوٹااورغیرمحتاط دعویٰ کیا،بھارت کے اس ڈھونگ کی بنیاد اندرونی انتخابی ماحول ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کی عالمی برادری کو نشانہ بنائے جانے والے علاقے کا مشاہدہ کرنےکی دعوت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نےخطےکےامن وسلامتی کوخطرات سے دو چار کر دیا ہے، جوابی کارروائی کیلئے پاکستان وقت اور جگہ کا تعین خود کرے گا۔اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی نے جارحیت کی اور جوابی کارروائی کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب خود کرے گا۔ 

اجلاس میں بھارت کی جانب سے فضائی دراندازی کا معاملہ فوری طور پر عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔سیکیورٹی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ زمینی اور فضائی سرحدی نگرانی کا مضبوط میکنزم موجود ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے رابطے کریں گے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ ایوان بالا اور ایوان زیریں کا مشترکہ اجلاس بدھ کو صبح گیارہ بجے طلب کیا گیا۔
x

1 تبصرہ:

  1. قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور پاکستان وقت اور جگہ کا تعین کر کے اس کا جواب دے گا۔ بھارت کی دراندازی کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینئر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔
    pak army

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.