صحافیوں کی برطرفیوں، تنخواہوں میں غیر معمولی تاخیر کے خلاف احتجاج

Journalists to protest against expulsion, delays in disbursement of salaries

کراچی کی تمام صحافی تنظیموں اور کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت میڈیا ہاؤسز سے جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتی کے خلاف پیر سے کراچی پریس کلب میں مستقل احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا۔

برطرف ملازمین کے کوائف جمع کرنے کے لیے پریس کلب میں ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے گا جبکہ بدھ 6  فروری کو نوائے وقت اور آج ٹی وی کے باہر احتجاجی کیمپ قائم اور دھرنا دیا جائے گا۔

اس بات کا فیصلہ کراچی یونین آف جرنلسٹس اور کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران نے کی۔  اجلاس میں متفقہ طور پر سیکریٹری پریس کلب ارمان صابر  کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا۔

پی ایف یو جے کے تینوں گروپس کے رہنماؤں ایوب جان سرہندی، جی ایم جمالی، سہیل افضل ، تینوں کے یو جیز کے صدور فہیم صدیقی، حسن عباس، طارق ابوالحسن، کے یو جیز کے سیکریٹریز جاوید قریشی، حامد الرحمن اور پی ایف یو جے دستور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شعیب احمد نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں صحافی حقوق کی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور طے پایا کہ کراچی پریس کلب کی حدود میں ہونے والی سرگرمیاں جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور کراچی پریس کلب سے باہر ہونے والے دھرنے جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی کے بینر تلے کیے جائیں گے ، جس میں اخباری کارکنوں کی تنظیمیں اور دیگر مزدور تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ میڈیا ہاؤسز سے جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر اور کٹوتی اور اس پر حکومتی خاموشی کی مذمت کی گئی۔  

اجلاس میں کراچی کی صحافی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ احتجاجی کیمپ اور دھرنوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.