نیب نےسینئرصوبائی وزیرعبدالعلیم خان کوگرفتار کرلیا

Aleem Khan arrested by NAB

قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے مقدمے اور آف شور کمپنیوں کے سیکنڈل میں لاہور سے گرفتار کرلیا۔

انہیں نیب کے دفتر میں تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا۔عبدالعلیم خان کو ریمانڈ کیلئے بدھ کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نیب نے عبدالعلیم خان سے 5 آف شور کمپنیوں سے متعلق سوالات کیے، وہ 18 میں سے 3 سوالات کے جواب دے سکے۔ جن آف شور کمپنیوں سے متعلق سوال پوچھے گئے ان میں آر اینڈ آر انٹرنیشنل، ایف زیڈ سی، اے این اے اور ہیکسم انوسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ کمپنی شامل ہیں۔ نیب نے غیر تسلی بخش جوابات کے بعد انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔ 

ترجمان نیب نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ملزم عبدالعلیم خان نے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ڈی جی نیب نے اپنے بیان میں کہا ہے نیب ٹیم کو شواہد پر مطمئن نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا،  میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق عبدالعلیم خان نے 900 کینال کی زمین اپنی کمپنی ایم ایس اے اینڈ اے کے نام پر حاصل کی۔ 600 کینال زمین خریدی، سرمایہ کاری کیلئے آمدن کا نہیں بتایا ؟ ملز م علیم خان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے 2005 اور 2006 میں یو اے ای، یو کے میں آف شورکمپنیاں بنائیں؟

آف شور کمپنیوں میں آر اینڈ آر انٹرنیشنل، ہیکسم انویسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ کمپنی اور ایف زیڈ سی شامل ہیں۔ ملزم نے آمدن سے زائد پاکستان اور بیرون ملک اثاثے بنائے، بطور سیکرٹری سوسائٹی کرپشن اور کرپٹ پریکٹس میں ملوث پائے گئے، رئیل اسٹیٹ کاروبار کیلئے بھی مختلف کمپنیاں بنائیں اور اس میں خود سرمایہ کاری کی۔

ادھر عبدالعلیم خان نے وزیر اعلیٰ کو بھجوائے گئے استعفی میں کہا ہے کہ وہ مقدمے میں گرفتاری کے باعث سینئر وزیر کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے وہ اپنے خلاف کیس اور گرفتاری کا عدالت میں سامنا کریں گے، امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا۔

یاد رہے 6ماہ بعد عبدالعلیم خان چوتھی بار نیب میں پیش ہوئے، عبدالعلیم خان کی آخری پیشی 10 اگست 2018 کو ہوئی، نیب بیرون ملک آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے، نیب نے عبدالعلیم خان کو آف شور کمپنی سکینڈل کی پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.