سانحہ ساہیوال، سی ٹی ڈی اہلکار وں کا یوٹرن، فائرنگ سے مکر گئے

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سانحہ ساہیوال کی تفتیش میں مصروف ہے، نجی ٹی وی کے مطابق  جے آئی ٹی نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے تفتیش کی۔ جے آئی ٹی نے  اہلکاروں سے سوال کیا کہ گاڑی پر فائرنگ کس نے کی؟ جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے فوری جواب دیا کہ فائرنگ انہوں نے نہیں کیا۔  جے آئی ٹی ارکان  نے ملزمان سے پوچھا کہ پھر کار میں سوار افراد کیسے ہلاک ہوئے؟ اس پر ملزمان نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

 ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے ملزمان سے سوال کیا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ اس پر بھی ملزمان نے فائرنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا، صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔

 دوسری جانب مقتول خلیل کے بھائی اور مقدمے کے مدعی جلیل  سمیت گواہان آج بھی شناخت پریڈ کے لیے نہ آئے جس کے باعث پریڈ ایک بار پھر ملتوی کردی گئی۔  مدعی جلیل نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کیا تھا، اسی لیے نہیں آئے۔

جلیل نےگزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  فائرنگ کرنے والے تمام ملزمان گرفتار ہیں ایسے میں شناخت پریڈ کی کیا ضرورت ہے، انہیں جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں وہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات چاہتے ہیں، جلیل نے حکومت پنجاب کی اب تک کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.