لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر دہشت گرد حملہ،3 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید

Blast in Loralai, Balochistan kills 9 people including 3 policemen

بلوچستان میں  ژوب ڈویژن کے ڈی آئی جی کے دفتر پر دہشت گرد حملہ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد شہید اور بارہ سے زائد زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آٹھ گھنٹے طویل کارروائی کے بعد تمام دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے اور ڈی آئی جی آفس کی عمارت کو کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

دہشت گردوں نے اس وقت حملہ کیا جب عمارت میں کلاس فور کے ملازمین کی بھرتی کے لئے ٹیسٹ ہو رہا تھا۔حملہ کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے  محاصرہ کر لیا۔

زخمیوں کو لورا لائی ٹیچنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا جہاں چار کی حالت نازک بتائی گئی ۔

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی اور وزیراعلیٰ میر جام کمال خان نے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔انہوں نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی کی بھی ہدایت کی ہے۔ 

وزیراعظم کی مذمت

وزیراعظم عمران خان نے لورالائی میں ڈی آئی جی کمپلیکس پر حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حملہ کے جواب میں فرنئیٹر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے اہلکاروں کی بروقت کارروائی کو سراہا۔  انہوں نے کہا کہ دشمنوں کا یہ بزدلانہ حملہ ان کی شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہماری فوج، پولیس اور قوم کے حوصلے بلند ہیں اور ملک میں دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے حملے کے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

1 تبصرہ:

  1. بلوچستان میں ژوب ڈویژن کے ڈی آئی جی کے دفتر پر دہشت گرد حملہ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد شہید اور بارہ سے زائد زخمی ہوگئے۔
    balochistan

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.