وزیراعظم کی ایف بی آر کو ٹیکسوں کا دائرہ کاربڑھانے پرتوجہ کی ہدایت

Imran Khan directs FBR to focus on expanding tax net

وزیراعظم عمران خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس وصولی اور ٹیکس کا د ائرہ وسیع کرنے پر توجہ دے۔

انہوں نے یہ بات ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کرانے کے لئے اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔عمران خان نے آف شور ٹیکسیشن کمشنرز سے بھی کہاکہ وہ آف شور اثاثوں سے متعلق مقدمات جلد از جلد نمٹا دیں۔انہوں نے ایف بی آر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے پر زور دیا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نئی ویب سائیٹ اور سہولت ڈیسک شروع کیا جارہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اندرونی آڈٹ کے محکمہ کو ایف بی آر سے علیحدہ کیا جارہا ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر اور اس کی شفافیت یقینی بنائی جاسکے۔

ادارے کو بیرون ملک اراضی پر قابل ٹیکس اثاثہ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے بارے میں مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی روشنی میں سینکڑوں لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ لاہور ، کراچی، اسلام آباد، پشاور ، کوئٹہ اور ملتان میں آف شور ٹیکسیشن کمشنریٹ قائم کئے گئے ہیں جو پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کریں گے اور ایسے کیس ترجیحی بنیاد پر نمٹائیں گے۔

وزیراعظم کو بتایاگیا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کو خوفزدہ کرنے کی بجائے ان کے لئے سہولت پیدا کرنا اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل کے شعبے کی بحالی کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وہ اسلام آباد میں ٹیکسٹائل کے شعبہ سے متعلق مسائل سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے روزگار اورملازمتوں کے مواقع کےلئے مہارتیں بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زوردیا جس سے ملک کی معیشت کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا ملکی اور عالمی منڈیوں میں طلب کے تناظر میں نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔ اس موقع پر  وزیراعظم کو آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ بیس ہزار نوجوانوں کومختلف شعبوں میں تربیت دینے کے مجوزہ پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو لاہور گارمنٹس سٹی، کراچی گارمنٹس سٹی اور پاکستان ٹیکسٹائل سٹی لمیٹڈ سے متعلق مختلف امور سے بھی آگاہ کیاگیا۔

1 تبصرہ:

  1. i think thats better decision of taking taxes from people because it has a little impact on country economy may Allah be merciful to our country situation because we are in a great trouble this time
    FBR

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.