خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت، دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا، فواد چودھری


Treason, arson, terrorism cases lodged against Khadim Hussain Rizvi, others, says Fawad Chaudhry

حکومت نے تحریک لبیک کے احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی املاک اور عوام کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے پر تحریک لبیک کے اہم رہنماوٴں کے خلاف غداری اور دہشتگردی کے الزامات میں مقدمات درج کرائے ہیں۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعات فوادچودھری نے کہا کہ تحریک لبیک کے رہنماء خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کے الزامات میں لاہور کے ایک تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پیر افضل قادری، حافظ فاروق الحسن اور دیگر کے خلاف بھی اسی طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ املاک کی توڑ پھوڑ، گاڑیوں کو نذرآتش کرنے اور خواتین اور بچوں سمیت لوگوں سے بدسلوکی میں ملوث تمام کارکنوں پر بھی دہشتگردی کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ دیگر افراد کو جو تماشائی کے طور پر وہاں موجود تھے تاہم کسی تخریبی کارروائی میں ملوث نہیں تھے بھاری جرمانے کی ادائیگی اور آئندہ ایسی کارروائیوں میں حصہ نہ لینے کی ضمانت کے بعد رہا کردیا جاےٴ گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیا جاےٴ گا  اور قانون کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کی بنیاد پر پولیس نے ایک بڑی کارروائی شروع کردی ہے اور کارروائی شروع کرنے سے پہلے حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ کارروائی کے دوران پنجاب میں دوہزار آٹھ سو ننانوے، سندھ میں ایک سوانتالیس اور اسلام آباد میں ایک سوچھبیس لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس قومی معاملہ پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے تعاون کو سراہا۔ 

وزیراطلاعات نے کہاکہ تحریک لبیک کی قیادت نے لوگوں کو نظام میں خلل ڈالنے پر اکسایا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج تمام شہریوں کا قانونی اور آئینی حق ہے تاہم ریاست اپنی عملداری کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا  کہ کسی کو بھی قانون اور آئین ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاےٴ گی اور خلاف ورزی کرنے والوں سے سخت سے نمٹا جاےٴ گا۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ تمام علمائے کرام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک لبیک کی سیاست نامناسب ہے اور انہوں نے خود کو ان کی سرگرمیوں سے علیحدہ کرلیا ہے۔حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر حزب اختلاف کی تنقید کے بارے میں سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ ہماری حکومت کا کوئی اسکینڈل نہیں ہے۔

انسداد تجاوزات مہم کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراطلاعات نے واضح طور پر کہا کہ مہم کو آگے بڑھایا جائے گا  اور کسی قسم کا دباوٴ  قبول نہیں کیا جاےٴ گا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.