پاکستان ذمہ دار جوہری ملک ہے تاہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر


DG ISPR addressing a news conference



ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ذمہ دار ملک ہے اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے گا۔


راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان خطہ میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ جنگ سے ہمیشہ تباہی ہوئی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اب تک 55 شہری شہید ہوئے ہیں جو اس عرصے کے دوران تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن کے پار شہریوں کو جان بوجھ کر ہدف بنارہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ امن کے قیام کے لئے کئی مثبت اقدامات کیے ہیں اور کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد اس سلسلے میں حالیہ اقدام ہے۔

افغان امن عمل کے بارے میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس سیاسی مصالحتی عمل کو کامیاب ہونا چاہیے۔ ہماری خواہش ہے کہ امریکا ایک ناکام ملک کی نہیں بلکہ ایک دوست کی حیثیت سے افغانستان سے واپس چلا جائے۔ 

امن عمل کے لئے پاکستان کے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہوا پاکستان افغان امن عمل میں سہولت فراہم کرانہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سیاسی مصالحت افغان تنازع کا واحد حل ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنے کیلئے افغانستان کے ساتھ 2611 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کامیاب کارروائیوں کے ذریعے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے ۔

داخلی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کا فی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعتماد ظاہر کیاکہ استحکام قائم کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں ملک میں مکمل امن قائم ہوگا ۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ سابق فاٹا ، بلوچستان اورکراچی میں دہشت گردی ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ دوہزار چودہ میں دہشت گردی کے تین سو سے زائد واقعات ہوئے تھے جبکہ دوہزار سترہ میں کوئی بھی دہشتگردی کا وااقعہ نہیں ہوا۔ کراچی میں رواں سال چینی قونصلیٹ پر حملہ اور ایک واقعہ مزید ہوا، تاہم کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں ننانوے فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں بھی ستانوے فیصد کمی ہوئی ہے اور اس کا سہرا رینجرز کے سر ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں نے بھی  امن و امان  بہتر کرنے میں اپنا کردار ادار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کرائم رینکنگ میں کراچی کا چھٹا نمبر تھا جو اب سڑسٹھویں نمبر پر جا چکا ہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا ۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ تین سال میں تین ہزار سے زیادہ فراریوں نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں ناراض عناصر پر زوردیاکہ تشدد کا راستہ ترک کردیں اور قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں چوالیس بڑی کارروائیاں اورخفیہ اطلاعات ملنے پر بیالیس ہزار دیگر کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ مختلف بور کے بتیس ہزار سے زیادہ ہتھیار برآمد کئے گئے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان ایک ایسے مقام پرپہنچ چکا ہے جہاں معیشت، نظم ونسق اور مذہبی اور فرقہ ورایت جیسی خرابیوں سے نمٹنا ہوگا ۔پشتون تحفظ تحریک کے مطالبات سے متعلق انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا میں حفاظتی چوکیوں کا معاملہ، بارودی سرنگوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی تلاشی سمیت تینوں مطالبات پرموثر انداز میں کام شروع کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سات ہزار لاپتہ افراد میں سے چار ہزار کے مقدمات کونمٹا دیاگیا ہے جبکہ باقی مقدمات پرکام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی بعض سرگرمیوں پر ریاست نے نظر انداز کیا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی گئی، تاہم اگر وہ لائن کراس کریں گے تو ریاست کو  ان کے خلاف ایکشن لینا پڑے گا۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زوردیا کہ پاکستان کامثبت تشخص اجاگرکرنے میں کردارادا کرے کیونکہ اس نے رائے عامہ کو دہشت گردی کے خلاف ہموار کیاتھا۔

1 تبصرہ:

  1. میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ سابق فاٹا ، بلوچستان اورکراچی میں دہشت گردی ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار چودہ میں دہشت گردی کے تین سو سے زائد واقعات ہوئے تھے جبکہ دوہزار سترہ میں کوئی بھی دہشتگردی کا وااقعہ نہیں ہوا۔ کراچی میں رواں سال چینی قونصلیٹ پر حملہ اور ایک واقعہ مزید ہوا، تاہم کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں ننانوے فیصد کمی آئی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.