بابری مسجد کے انہدام کو 26 سال، رام مندر بنانے کی مہم جاری، جانیئے کب کیا ہوا

Babri Masjid in the name of Ram was demolished in self-claimed secular India by Hindu extremists in 1992

بھارتی شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کو چھبیس برس گزر گئے لیکن آج بھی وہاں مندر بن سکا نہ ہی ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکا، عدالت میں کیس التواء کا شکار ہے اور تاریخوں پر تاریخیں پڑ رہی ہیں۔

انیس سو بانوے میں ہندو انتہاء پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندو مسلم فسادات میں دو ہزار سے زیادہ مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ مسجد کے مقام پر کئی بار رام مندر تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہندو مسلم فسادات پھوٹنے کے خوف اور عدالت میں کیس التواء کا شکار ہونے کے باعث ہر بار رام مندر کی تعمیر کی کوشش کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

 بابری مسجد مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے کمانڈر میر باقی نے 1528 عیسوی میں تعمیر کرائی تھی۔

بابری مسجد کو متنازع بنانے کے لئے پہلا کیس 1885 میں دائر کیا گیا تھا جس میں درخواست گزار مہانت رگھوبیرداس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مسجد کے احاطہ کے باہر ایک کینوپی بنانے کی اجازت دی جائے۔

بابری مسجد سے 1949 میں رام کی مورتی  برآمد ہونے کے بعد مسجد کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔

وشوا ہندو پریشد نے 1984 میں بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے لئے باقاعدہ ایک مہم کا آغاز کیا۔

فیض آباد کی ضلعی عدالت نے 1986 میں مسجد  کے دروازوں کو ہندوؤں کی پوجا کے لئے کھولنے کا حکم دیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماء ایل کے ایڈوانی نے 1990 میں مسجد کے انہدام کی مہم کو تیز کرنے کے لئے رتھ یاترا کی۔

مہم دو سال کے عرصہ میں اپنے عروج پر پہنچی اوربھارت کے مختلف علاقوں سےہزاروں ہندو انتہاء پسند 1992 میں ایودھیا پہنچے جہاں ماہ دسمبر میں  انہوں نے مسجد کو ڈھا دیا۔

دسمبر 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کی دو ایف آئی آر درج کی گئیں ۔ ایک ایف آئی آر کارسیوکوں کے خلاف جبکہ دوسری ایف آئی آر ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اور دیگر کے خلاف درج کی گئی۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام کے لئے لوگوں کو اپنی تقریروں کے ذریعہ اکسایا تھا۔
 L.K. Advani, Uma Bharti, Murli Manohar Joshi are accused of being main characters in Babri mosque demolition

متنازع زمین حاصل کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے اپریل1993 میں لینڈ ایکوزیشن ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور کرالیا۔

اپریل 1993 میں ہی اسماعیل فاروقی سمیت کئی درخواست گزاروں نے نئے منظور شدہ قانون کی متعدد شقوں کو عدالت میں چیلنج کردیا۔

اکتوبر 1993 میں بھارت کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ایل کے ایڈوانی اور دیگر کے خلاف سازش کرنے کی فرد جرم عائد کردی۔

اکتوبر 1994 میں سپریم کورٹ نے اسماعیل فاروقی کیس میں قرار دیا کہ بابری مسجد مذہب اسلام کا لازمی جزو نہیں۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مئی 2001 میں  بابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے اور دیگر کے خلاف کیس خارج کردیا۔

سی بی آئی نے الہ باد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ میں ایل کے ایڈوانی اور دیگر کےخلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ تکنیکی بنیاد پرنومبر 2004 میں چیلنج کردیا۔

جون 2009 میں لائبر ہان کمیشن نے اپنی رپورٹ جمع کرادی۔ کمیشن بابری مسجد کے انہدام کے فوری بعد تشکیل دیا گیا تھا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بابری مسجد کو منصوبہ بندی کے تحت گرایا گیا جس میں ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی کے متعدد رہنماء شامل تھے۔

مئی 2010 میں الہ باد ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں مضبوط شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ فیصلہ کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

الہ باد ہائی کورٹ نے ستمبر 2010 میں ایک متعدد درخواستوں پر فیصلہ سنایا کہ مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ نرموہی اکھڑا تنظیم، دوسرا حصہ رام لیلا تنظیم اور  تیسرا حصہ سنی وقف بورڈ کو دیا جائے۔

الہ باد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہندوؤں اور مسلم گروپوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔ سپریم کورٹ نے مئی 2011 میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم امتناع جاری کردیا۔

بی جے پی کے رہنماء سبرامنیم سوامی نے فروری 2016 میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ بابری مسجد کے متنازع مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اپریل 2017 میں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور دیگر پر مجرمانہ سازش کی فرد جرم  عائد کرنے کی سی بی آئی کی درخواست منظور کرلی۔ 

Indian Supreme Court
مئی 2017 میں سی بی آئی خصوصی عدالت نے بی جے پی رہنماؤں سمیت تمام ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔

دسمبر 2017 میں سول رائیٹس کارکنان نے الہ باد ہائی کورٹ کا  2010 کا فیصلہ چیلنج کردیا جس میں بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

جولائی 2018 میں اترپردیشن کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بعض مسلم گروپس 1994 کے فیصلہ کے چند پہلوؤں پر نظر ثانی کے بہانے کیس کو آگے چلانے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔

ستمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے اپنے 1994 کے فیصلہ کو پانچ ممبر بینچ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

بال ٹھاکرے کے صاحبزادے اور شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے نومبر 2018 میں ایودھیا کو دورہ کیا اور لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر مندر جلد از جلد تعمیر نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ آئیں گے۔

ہندوؤں کی انتہاء پسند تنظیم وشوا ہندو  پریشد نے نومبر 2018 میں ایودھیا  میں رام مندر کی تعمیر کے حق میں ایک جلسہ منعقد کیا۔

Muslims offering Eid prayers in the demolished Babri Masjid in Ayodhya, District Faizabad

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.