نوازشریف کے خلاف کرپشن کےآخری 2کیسزکےفیصلے چند دن کی دوری پر

Nawaz Sharif records his statement in flagship reference in accountability court

سابق وزیر اعظم پھر جیل جائیں گے یا بری ہوجائیں گے، نواز شریف کے خلاف قائم کرپشن کےتین مقدمات میں سےآخری دو کیسزکے فیصلہ کا دن بہت قریب آگیا، نوازشریف نے تیسرے اور آخری فلیگ شپ ریفرنس میں بھی بیان ریکارڈ کرادیا۔ 

سپریم کورٹ نے نواز شریف کےمقدمات نمٹانے کے لئے دس دسمبر کی مہلت دے رکھی ہے۔

فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کےبیان میں دو دن تاخیر پر احتساب عدالت نے وکیل صفائی سے مکالمےمیں کہاآپ تاخیرکررہے ہیں، لگتا ہےآپ نہیں چاہتے ٹرائل جلد مکمل ہو، کتنے دنوں سے سوال دیئے ہوئے ہیں بیان مکمل کیوں نہیں ہورہا۔

عدالت نے بیان کے دوران نوازشریف سےایک ایساچبھتاہوا سوال بھی کیا جس پروہ بغلیں جھانکنےلگے، فاضل جج ارشد ملک نے براہ راست پوچھاتھا میاں صاحب ! آپ نےبچوں سےکبھی نہیں کہا مشکل وقت ہے،دستاویزات دےدیں؟ پہلےتو آپ وزیراعظم تھے، مصروف  تھے ٹھیک ہے لیکن اب بیٹوں سےجائیدادکی دستاویزات سےمتعلق پوچھ لیتے۔

عدالت کے سوال پر نواز شریف تو چپ رہے ،وکیل صفائی خواجہ حارث منطق لائے کہ بچے اب بڑے ہوگئےہیں ناں، اپنی مرضی کرتے ہیں دباؤ نہیں ڈال سکتےجس پرفاضل جج نے کہا پھربھی پوچھ تو سکتے ہیں۔


نوازشریف کا کہنا تھا مجھےاپنےدفاع میں کچھ بھی پیش کرنےکی ضرورت نہیں،ہم  انیس سو ستر میں انڈیا کے ٹاٹاگروپ کامقابلہ کررہےتھے، بائیس کروڑعوام میں سےصرف دو بیٹوں  اور ایک والدکونشانہ بنایا جارہا رہا ہے، ہمارے خاندان اور کاروبار پر جو کچھ گزری یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.