کراچی کی زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرانے میں آباد کردار ادا کرے، ڈی آئی جی شرقی


DIG Police visits ABAD office in Karachi

ڈی آئی جی ایسٹ کراچی پولیس عامر فاروقی نے کہا کہ آباد روزگار فراہم کرکے جرائم کم کرنے میں پولیس کی مدد کررہا ہے،سرکاری محکموں کی جانب سے ایک ہی پلاٹ کے مالکانہ حقوق کی کئی دستاویزات فراہم کرنے سے  لینڈ مافیا کو فائدہ پہنچ رہا ہے، آباد زمینوں کو کمپیوٹرائز کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔   

وہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے مرکزی دفتر آباد ہاؤس میں تقریب سے خطاب کررہے تھے۔  انہوں نے کہا آباد کے مسائل حل کرنے کے لیے پولیس اور آباد کی لیاژان کمیٹی قائم کی جائے گی،امن امان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو کراچی،  نیو دہلی اور امریکا کے متعدد شہروں سے بہتر ہے۔

اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی،سینئر وائس چیئرمین انور داؤد،وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا،سدرن ریجن کے چیئرمین ابراہیم حبیب،آباد لااینڈ آرڈر کمیٹی کے کنوینر آصف سم سم،ایس ایس پی ایسٹ غلام اصغر مہیسر،مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز اور آباد ممبران کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

ڈی آئی جی شرقی نے بتایا کہ پولیس میں نئے بھرتی اہلکاروں کو کراچی  کے تھانوں میں تعینات کردیا گیا ہے جس سے شہر کی امن وامان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی،پولیس میں میرٹ پر بھرتیوں سے پولیس رویے میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آباد کے ممبران ذمہ دار بلڈرز اور ڈیولپرز ہیں جو قانون کے مطابق اپنا کاروبار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی پلاٹ کے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے مالکانہ حقوق کی دستاویزات فراہم کرنے اور عدالتوں میں سول کیسز میں تاخیر سے پولیس کو  بھتہ مافیا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے آباد سے استدعا کی کہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر زمینوں  کے ریکارڈ کمپیوٹرائز کرانے میں اپنا کردار ادا کریں جس سے قبضہ مافیا کو لگام دی جاسکے گی۔ انہوں نے 22 نومبر کو پانی کی این او سی کے لیے آباد   دھرنے کے شرکاء کو پرامن رہنے اور قانون  کے دائرے میں رہ کر مظاہرہ کرنے پر آباد سے اظہار تشکر کیا  اور  دھرنے کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں کو این او سی کے اجراء  پر آباد رہنماؤں کو مبارکباد بھی دی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد حسن بخشی نے کہا کہ کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں  کی تعمیرات پر پابندی سے تعمیراتی شعبہ بحران کی زد میں ہے،600 تعمیراتی منصوبے رکے ہوئے ہیں جس سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک گئی۔ اس کے نتیجہ میں 5 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار سے استدعا  ہے کہ  ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے بلند عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی پر نظر ثانی کریں۔

انہوں نے کراچی میں امن و امان قائم کرنے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  پولیس کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے دیتے ہوئے ہماری جان ومال کی حفاظت کرتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر آباد کے وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا نے ڈی آئی جی شرقی اور تمام پولیس افسران کی جانب سے آباد سے اظہار یکجہتی کرنے پر اظہارتشکر کیا۔ انہوں نے کراچی میں امن قائم کرنے پر سندھ پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.