سستا تیل، مہنگا پانی

Many petrol stations in Karachi owned by police officers, sources say

تحریر: شاہد انجم

آخر کا یہ جھگڑا  اتنا طول کیوں پکڑتا جارہا ہے، پریشان حال عوام اپنے دکھ اور درد کس کو سنائیں۔ لب کھلے تو شدید مزاحمت کا سامنا، سنگین نتائج کی دھمکیاں، غبن اور کرپشن کے الزامات سہنے پڑتے ہیں، جانوروں سے منسوب نام رکھ دیئے جاتے ہیں کوئی داد فریاد سننے والا نہیں ہے، معاشرے کو کیا منہ دکھائیں کہ ہم جھوٹے ہیں کہ سچے ہیں۔ کہیں  کچھ نہ کچھ تو ایسا ہورہا ہے بلواسطہ یا بلاواسطہ شریک جرم تو ہیں، سہولت کاری ہی سہی کچھ تو آپ کا کردار کہیں نہ کہیں تو ضرور ہے مگر شاید بہروپیے نہیں بن سکتے۔

کمانڈر کے سامنے آنے والی فائل کو دیکھ کر جب پیشی کا وقت آیا تو سب کو اپنی اپنی باری کا سامنا کرنا پڑا مگر کمانڈر نے اس وقت کسی کو نہیں پہچانا۔ شاید پیشی کے لئے آنے والے تمام داروغے میک اپ کے بغیر تھے۔ تمام کو اپنی اپنی باری پر سزا کا قلندری تھمایا جارہا تھا، اس دوران کمانڈر کا ایک دوست جو کہ قریب ہی کرسی پر بیٹھا ہوا تمام ماجرا دیکھ رہا تھا، سوچنے پر مجبور تھا کہ سزا پانے والوں میں ایسے بھی لوگ شامل ہیں جن پر دو بالٹی پانی چوری کا الزام لگایا گیا ہے۔

کمانڈر صاحب نے ایک لمبی قطار کوسزادینے کے بعد لمبا سانس لیتے ہوئے دوست کو مخاطب کیا اور کہا کیسی گزر رہی ہے؟ ہمیں تو محکمہ کی ان کالی بھیڑوں نے مصیبت میں ڈال رکھا ہے اب ہمیں اعلیٰ حکام کو بھی جواب دینا ہے جن کی طرف سے یہ احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

اس پر کمانڈر کے دوست جبار کا یہ کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ابھی سزا دی گئی ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو میں آپ کی خدمت کرتے ہوئے عرصہ دراز سے دیکھ رہا ہوں، کمانڈر صاحب۔ جبار تم ٹھیک کہتے ہو مگر یہ الزام میں خود پر تو نہیں لوں گا اور نہ ہی کوئی اور اعلیٰ افسر مجھ پر یہ الزام آنے دے گا۔

بہرحال یہ محکمہ کی کالی بھیڑیں ہیں انہیں پانی فروخت کرنے اور چھوٹے موٹے الزامات میں سزا تو دینی ہے تاکہ ہم سے محکمہ بھی خوش رہے اور عوام کی نظریں بھی ہم پر نہ اٹھیں۔

کمانڈر صاحب کے اس رویئے اور سزا کے عمل کو دیکھ کر مجھے کراچی پولیس میں کئی برسوں سے دی جانیوالی چند سزاؤں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا جہاں اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے پولیس میں کرپشن، لوٹ مار، بھتہ خوری، جعلی پولیس مقابلے اور دیگر کئی جرائم میں ملوث ہونے کی شکایات موصول ہونے پر ایک تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

اعلیٰ افسران کی جانب سے ایک فہرست تیار کر کے سپاہی سے لے کر انسپکٹر کے عہدے تک پولیس کا تقریباً ایک تہائی حصہ کو کالی بھیڑیں قرار دیا گیا۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ جہاں دو بالٹی پانی کانام لے کر لوگوں کو سزائیں دی جارہی ہیں وہاں ایک سو سے زائد پیٹرول پمپس کے بلواسطہ یا بلاواسطہ پولیس کے اعلیٰ افسران مالکان ہیں اور ان پمپوں پر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں لیٹر اسمگل شدہ پیٹرول یا ڈیزل فروخت کیا جا رہا ہے جس سے حکومت کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے جبکہ دوسری جانب اس غیر میعاری تیل کی وجہ سے آلودگی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے مالکان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سندھ پولیس کے سربراہ جو کہ چند روز قبل ہی اس عہدے پر براجمان ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس گورکھ دھندے کی تحقیقات کرائیں اور اس میں ملوث ان افسران کے خلاف  کارروائی کریں تاکہ پتہ چل سکے کہ یہاں کالی بھڑیں نہیں بلکہ بھڑیئے بھی ہیں۔ پولیس افسران کے ان پٹرول پمپوں کی تفصیلات اگلے کالموں میں منظر عام پر لائی جائیں گی۔



اس تحریر کے مصنف شاہد انجم کہنہ مشق صحافی ہیں اور جرائم کی کوریج میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہد انجم سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.