سینئر صحافی نصراللہ خان کو 5 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

Senior Journalist Nasrullah Khan being taken to court by CTD Police

سینئر صحافی نصراللہ خان کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے  دو روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پانچ روزکے لئے جیل پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

کراچی پریس کلب کے رکن نصر اللہ کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد سی ٹی ڈی نے بدھ کو عدالت میں پیش کیا۔ اپنے پیٹی بند بھائیوں کے برعکس سینئر صحافی کو ہتھکڑی لگا کر اور منہ پر کپڑا ڈال کر عدالت میں پیشی کے لئے لایا گیا۔

سماعت کے دوران کراچی پریس کلب کے صدر احمد ملک نے بیان دینے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو  اصل صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

عدالت سے اجازت ملنے کے بعد احمد ملک نے بتایا کہ کراچی پریس کلب جیسے مہذب ادارے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارا، چھاپے میں مسلح افراد داخل ہوئے اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا۔ 

احمد ملک نے بتایا کہ چھاپے کے بعد ہمارے مہذب ممبر کو اٹھایا گیا اور ممنوعہ لٹریچر کی برآمدگی کا من گھڑت مقدمہ قائم کیا گیا۔ احمد ملک نے استفسار کیا کہ ایک صحافی کا مطالعہ کرنا کیا جرم ہے؟

عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے مزید جسمانی ریمانڈ پر زور دینے کی بجائے کہا کہ صحافی کو جیل بھیج دیا جائے، اعتراض نہیں جس پر  عدالت نے سینئر صحافی کو پانچ روز کے لئے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

Senior Journalist Nasrullah Khan being taken away from court by CTD Policeسینئر صحافی کے چہرے پر کپڑا ڈالنے پر صحافیوں نے احاطہ عدالت میں شدید احتجاج کیا۔  صحافیوں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جعلی مقابلوں میں سینکڑوں افراد کو قتل کرنے کے الزام میں ملوث معطل ایس ایس پی راؤ انوار کو پولیس بغیر ہتھکڑی  لگائے احترام سے عدالت میں پیش کرتی آئی ہے، جبکہ صحافیوں اور اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتاہے۔

احتجاجی صحافیوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس راؤ انوار اور جرائم کے الزام میں ملوث دیگر پیٹی بند بھائیوں کو ہتھکڑیاں لگا کرعدالت میں پیش کیوں نہیں کرتی۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.