پاکستان اور چین کے درمیان پندرہ معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط

Pakistan China ink 15 agreements & MoUs in various sectors

پاکستان اور چین نے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے پندرہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔

دونوں ممالک نے پاکستان میں غربت کے خاتمہ اور زراعت  و صنعت کے شعبوں اور فنی تربیت سے متعلق معاہدو ں پر بھی دستخط کیے۔ جنگلات، ارضیاتی علوم اور الیکٹرانکس کے تبادلے میں تعاون کے لئے بھی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔  اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور چین کی سائنس اکیڈمی جبکہ چائینز اکیڈ می آف سائنس اور پاکستان کے محکمہ موسمیات کے درمیان بھی معاہدہ ہوا۔وزیراعظم عمران خان اور چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ بھی دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے۔

اس سے قبل جمعہ کو چین کے صدر شی چن پنگ نے پاکستان چین سدابہار اسٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم کرنے اور مشترکہ مستقبل کے نئے دور کے آغاز کیلئے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ۔

Prime Minister Imran Khan meets Chinese President Xi Jinping at Great People's Hall in Beijing

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کیا۔شی چن پنگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور پھر کہا کہ ہم سدا بہار دوست ہیں۔انہوں نے باہمی دلچسپی کے تمام اہم امور کے بارے میں پاکستان کیلئے چین کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پرکہا کہ صدر شی کے ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کے وژن اور اس کے تحت اقتصادی راہداری کے اہم منصوبے سے خطے اور دنیا بھر کے لئے سازگار حالات اور خوشحالی کا حصول ممکن ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے دونوں برادر ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

وزیراعظم عمران خان نے صدر شی چن پنگ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔

وزیراعظم عمران خان اور صدر شی نے اقتصادی راہداری کی پیش رفت کا جائزہ اور اس کی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کیلئے اس کے زیادہ سے زیادہ ثمرات یقینی بنانے کی غرض سے اس کی جلد تکمیل کا عزم ظاہر کیا۔

ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان کو چین سے سی پیک منصبوبوں کے لیے چھ ارب ڈالرز کا پیکچ جبکہ ڈیڑھ ارب ڈالرز قرضہ ملنے کا امکان ہے اور چین سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے جائیں گے۔  

دونوں وفود کے درمیان درآمدات اور برآمدات کے حجم کو متوازن کرنے پر بات چیت کی گئی جبکہ اقتصادی راہداری منصوبے میں بھی دیگر ممالک کو شامل کرنے  پر بھی اتفاق کیا گیا۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.