امریکا نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس کرنے کی شرائط رکھ دیں، بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا دعویٰ


عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے عافیہ صدیقی کو واپس کرنے کے لئے پاکستانی حکومت کے سامنے چند شرائط رکھی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے  اشارے ملے ہیں لیکن ان مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا تھا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے عمران خان ان کے ہیروز میں سے ایک ہیرو رہے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

برطانوی نشریاتی رابطے سے بات کرتے ہوئے فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے تین راستے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ پاکستان اُس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم پاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں۔  فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوگا۔

اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خط موجود نہیں مگر ان کے مطابق یہ پاکستانی حکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات میں ہے۔  ان کا دعویٰ ہے کہ اس بارے میں امریکہ نے مثبت اشارے دیئے ہیں تاہم ان کی تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.