سکھ کمیونٹی کی متروکہ وقف املاک بورڈ پرشدید تنقید


 پاکستان بھر میں بسنے والے سکھوں کی نمائندہ تنظیم سکھ کمیٹی آف پاکستان نے متروکہ وقف املاک بورڈ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ صرف کرایوں کی مد میں ملک بھر سے اربوں روپے وصول کرتا ہے لیکن گردواروں کی مرمت خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 سکھ کمیٹی آف پاکستان کے چیئرمین رادیش سنگھ ٹونی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گردواروں کی مرمت اور تذئین و آرائش کے لیے سکھ کمیونٹی جیب سے خرچ کرتی ہے درخواستیں دینے کے باوجود املاک بورڈ سے تسلی بخش جواب نہیں ملا، اس کے برعکس بھارت کے شور کے خوف سے مندروں پر بے دریغ لٹادیتا ہے حالانکہ  مندروں سے سالانہ ایک لاکھ روپے آمدنی بھی نہیں ہوتی جبکہ گردواروں سے کروڑوں کی مد میں بورڈ کو ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  قیام پاکستان کےوقت ملک میں 327 گردوارے تھے اب صرف 27 رہ گئے ہیں، بیشتر گردوارے بیچ کر شادی ہال یا پلازے بنائے گئے جبکہ کئی عمارتوں پر مسلمان بھائی قابض ہیں۔

                                            یہ بھی پڑھیے: سکھ کمیونٹی کو ہیلمٹ سے استثنیٰ
                                              کے پی ٹریفک پولیس کا شکریہ، سکھ کمیٹی آف پاکستان
رادیش سنگھ ٹونی کا کہنا تھا کہ صرف یہی نہیں بلکہ وعدوں کے باوجود دہشتگردی میں ہلاک افراد کے بارے میں بھی محکمہ اوقاف کی نا اہلی یا امتیازی سلوک سب کے سامنے ہے۔ ایک ایم پی اے سمیت دس افراد دہشتگردی کا شکار ہوئے لیکن سوائے ایم پی اے کے کسی شخص کو شہید پیکج نہیں مل سکا۔ صوبائی حکومت پانچ ماہ گزرنے کے باوجود  چرن جیت سنگھ کے اہل خانہ کو پیکج دینے پر تیار نہیں۔ حکام آئے تسلی دیکر چلے گئے لیکن مقتول کے اہل خانہ کی کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.